خطابات نور — Page 465
لیں۔کسی نے کچھ سوچا اور کسی نے کچھ زیر نظر رکھا۔ایک ایڈیٹر ہے وہ اس واقعہ کو تاریخ سلسلہ کا ایک واقعہ قرار دے کر تاریخ کا ایک ورق بڑھانا چاہتا ہے۔میں کہتا ہوں اچھا ہے تم بھی ایک ورق تاریخ میں الٹا دو۔مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو گا اور کیونکر ہو گا۔غرض ہر شخص مختلف اسباب کے نیچے یہاں آیا۔اور پھر مختلف نتائج ان اسباب سے پیدا ہوں گے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ علّت معلول کا سلسلہ ایک لمبا سلسلہ ہے۔پس میں تمہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم بھی مسلمان ہو کر مرنا۔اور اس کے لئے اگر آج تیاری نہیں کرتے تو مسلمان ہو کر مرنا تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔اگر کہو کہ مرنے کے وقت مسلمان ہو جائیں گے اور کلمہ پڑھ لیں گے تو یہ ایک خیال باطل ہے آج ہی کچھ تیاری کرو گے تو کچھ بنے گا۔ایک مثال: اس وقت جو حالت ہوتی ہے وہ میں تمہیں طبی تجربہ سے بتا چکا ہوں۔ایک مثال کے ذریعہ اور بھی واضح کرتا ہوں۔ایک کنچنی تھی میں نے اس کو بہت نصیحتیں کیں آخر میں نے اس کو کہا کہ تم بدکاری سے توبہ کر لو۔میں جوان تھا وہ اپنے خوبصورت حصہ کو زیور سے خوب آراستہ کر کے میرے پاس آتی رہی اور مجھے یہ بھی کہتی تھی کہ توبہ کر لی۔آخر وہ کوئی تین چار ماہ غائب رہی اور پھر بڑے تزک واحتشام سے آئی اور مجھے کہا کہ مولا! توبہ اور بھوک سے مرنے لگے تھے اس واسطے اب کے ہولی میں توبہ توڑ دی۔اس کی یہ بات سن کر میرے دل میں جوش پیدا ہوا اور میں نے معلوم کیا کہ اس نے کوئی بڑی بدکاری کی ہے اور اس طرح پر اس نے توبہ کی تذلیل کی ہے۔اس نے کہا کہ وہاں سے ہم کو چار سو روپیہ ملا۔اس کی یہ باتیں سن کر میرے دل میں سخت جوش آیا اور میں نے کہا یہاں سے چلی جائو۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا رحم کیا ہے تم مجھ کو گرفتار کرنا چاہتی تھیں وہ دائو نہیں چلا۔اب توبہ کی حقارت کرتی ہو یاد رکھو اب تمہیں توبہ نصیب نہ ہو گی۔جب وہ گھر گئی تو اس پر فالج گرا اور زبان بند ہو گئی۔اس کا لڑکا دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ حالت ہے وہ روپیہ لائی تھی کہیں رکھ دیا ہے اور بتا نہیں سکتی۔اس کو اس کے مرنے کا جو غم تھا وہ تھا ہی اس کے ساتھ ایک اور مصیبت تھی کہ پانچ سو روپیہ روٹی پر پہلے دینا پڑتا تھا۔میں نے اس کو کہہ دیا کہ وہ بات نہیں کر سکے گی مگر اس نے بہت منت کی کہ آپ دیکھیں تو سہی مگر مجھے یقین تھا کہ توبہ