خطابات نور — Page 444
کہتا ہوں پھر کہتا ہوں پھر کہتا ہوں اختلافات کو مٹا دو توبہ کر لو۔جس کے کان ہوں سن لے جس قدر غلطی کسی سے ہوئی ہے اس سے توبہ کرلو۔اس میں تمھارا بھلا ہے۔آج میں نے عورتوں کے درس میں اس نکتہ کو سنایا ہے اور میں اس تقریر کو ختم نہیں کرسکتا جب تک تمہیں نہ سنا لوں۔بہت سی بستیاں آباد تھیں ان بستی والوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی آخر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔انہوں نے اپنی کرتوتوں کا بدلہ پایا۔واعظ خانہ: یہ بات کیوں سنائی ہے؟کان والو! سن لو! عقل والو! سمجھ لو ! اگر میری آواز تم تک نہیں پہنچتی تو کہو میں اور اونچا کروں۔سنو ! ہر شخص جو بڑا بنایا جاتا ہے اس کے پڑوس میں اجڑا ہوا کوئی گھر ضرور ہوتا ہے۔ہر شہر میں ، ہر بستی میں اس کے نظائر موجود ہیں۔میں ایک بستی میں رہتا تھا وہاں کا ایک امیر مجھ سے حد درجہ کی دشمنی رکھتا تھا۔وہ میرے قتل کو چاہتا تو میں بھی اس کی زندگی کا خواہاں تھا۔غرض میرے ساتھ اس کو سخت عداوت تھی۔ایک دن میرے دل میں آیا کہ اتنے بڑے آدمی کو کون نصیحت کرسکتا ہے؟ یہ سوچ کر میں باوجود عداوت کے اس کے گھر چلا گیا۔میں نے بڑی جرأت کی‘ وہ اس وقت کچہری کررہا تھامیں بیٹھ گیا۔وہ حکم احکام لکھتا رہا۔جوں جوں جگہ خالی ہوتی گئی میں بھی آگے ہوتا گیا۔یہاں تک کہ سب لوگ چلے گئے اور صرف وہ اور میں اور اس کا میرمنشی اور چند پہرہ کے سپاہی رہ گئے۔پھر اس نے میری طرف مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کس طرح تشریف لائے ہیں؟ میں نے کہا بڑا ضروری کام ہے مگر تنہائی میں کہنا چاہتا ہوں۔جب میں نے یہ کہا تو اس کا میر منشی جو میرا معتقد تھا فوراً چلا گیا اور اس کے پہرہ کے ایک قریبی سپاہی کے سوا باقی سپاہی بھی الگ ہوگئے۔تب میں نے اس کو کہا کہ جو بڑے آدمی ہوتے ہیں ان کے لئے ایک واعظ ہوتا ہے کیا آپ کے لئے بھی کوئی ہے؟ کہنے لگا۔مولوی صاحب (اسی دن مولوی کہا) ذرا کھول کر بتائو۔اس پر میں نے کہاکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ جو بڑے آدمی ہوتے ہیں ان کے پڑوس میں کوئی نہ کوئی اجڑا ہوا گھر ہوتا ہے جو اس کو نصیحت کرتا رہتا ہے کہ سنبھل کر چلو ایسا نہ ہو تمہیں بھی عذاب میں گرفتار ہونا پڑے۔یہ سن کر مجھے کہا کہ مولوی صاحب آگے آئو آگے جگہ تو نہ تھی ایک کھڑکی تھی جس کے آگے وہ بیٹھا ہوا تھا۔میں گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا۔پھر کہا ذرا اور آگے ہو جائو۔آخر میں اور آگے ہوا۔اس نے کہا میری گدی تو وہ پڑی ہے مگر میں کبھی وہاں نہیں بیٹھا یہاں بیٹھتا ہوں مگرآج مجھے سمجھ آئی ہے کہ میں یہاں کیوں بیٹھتا ہوں۔