خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 443 of 660

خطابات نور — Page 443

لئے اوّل وہ کتاب خود ذریعہ ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد ہے پھر احادیث ہیں پھر لغت ہے پھر اللہ تعالیٰ کی حضور سے مدد اور دعا ذرائع ہیں۔یہ میرے اصول ہیں یہاں رہو تب اور چلے جائیں تب ان کو یاد رکھو۔ہم صحابہ کرام کو اور تابعین عظام کو رضوان اللہ علیہم اجمعین ابوبکرؓ وعمر ؓ سے لے کر معاویہ مغیرہ تک اویس قرنی وحسن بصری سے لے کر ابراہیم نخعی ونافع عکرمہ تک اور اہل بیت میں خدیجہؓ وعائشہؓ سے لے کر علی المرتضیٰؓ اور تمام اہل بیت علیہم السلام کو اپنا پیارا یقین کرتے ہیں۔ہم آئمہ حدیث فقہ اور تصوف کی اتباع ضروری سمجھتے ہیں اور انہیں امام سمجھتے ہیں اس لئے امام اعظم، شافعی، مالک، احمد حنبل، امام بخاری، مسلم، ابو دائود، ترمذی، نسائی اور امام محمد رحمہم اللہ علیہم اجمعین کی جائز تکریم کرتے ہیں۔اسی طرح تصوف میں حضرت سید عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی، قطب الدین بختیار کاکی، شیخ شہاب الدین سہروردی، محبوب الٰہی سلطان نظام الدین اولیا، ابن عم حضرت فرید الدین گنج شکر، چراغ دہلوی، خواجہ نقشبند، خواجہ احمد سرہندی،ز کریا ملتانی، شاہ بہاء الحق ملتانی رحمہم اللہ اجمعین کو دل سے پیار کرتا ہوں اور ایسا ہی ابن حزم، ابن تیمیہ اور ابن حجر اور ابن ہشام، ذہبی اور شوکانی کو بھی محبت کرتا ہوں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور ہادیوں میں گزرے ہیں۔پھر اس قریب زمانہ میں شاہ ولی اللہ صاحب کو میں ممتاز انسان یقین کرتا ہوں اور سید احمد بریلوی کو خدا کے مخلص بندوں سے سمجھتا ہوں اور حضرت مسیح موعود اور مہدی بھی آچکے جن کا خدا نے اپنے فضل سے مجھ کو خلیفہ بنایا (الجمعۃ :۵)۔تاریخ : اب جبکہ ہمارے عقائد آپ کو معلوم ہو گئے ہیں ایک اور مسئلہ تمہیں بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تاریخ میں جھوٹ اور سچ میں فرق کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔اب تازہ واقعہ تمہارے سامنے موجود ہے طرابلس کی جنگ کی خبریں آرہی ہیں اور وہ شائع ہوتی ہیں۔اب اگر کوئی شخص ان اخبارات جنگ سے کوئی تاریخ مرتب کرے تو تم ہی بتائو کہ اس کتاب کی حقیقت کیا ہو گی؟ صوفیوں میں سید عبدالقادر، امام قشیری اور صاحب عوارف کی باتیں آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں مگر صاحب فتوحات کی تصانیف مشکل ہیں‘ خصوص اور منازل السائرین آسان نہیں۔پس تم کو میں پھر