خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 433 of 660

خطابات نور — Page 433

بڑے کنبے کے آدمی کی جو حالت ہو سکتی ہے اس کا قیاس تو کرو۔پھر میری حالت کو دیکھو اور سمجھ لو کہ مجھے تمہاری بھلائی کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے۔حضرت صاحب توبہ کی بیعت لیتے تھے۔میں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ بیعت ارشاد کیوں نہیں لیتے۔فرمایا میں شکر کرتا ہوں کہ توبہ ہی کر لیتے ہیں۔پس تم میری اس نصیحت کو یاد رکھو میں تمہارے بھلے کے لئے کہتا ہوں کہ کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے ذرا بھی تفرقہ کا احتمال ہو سکے۔میری توجہ اور عقد ہمت کو اسی میں لگا رہنے دو۔دوسری طرف متوجہ نہ ہونے دو اس میں تمہارا بھلا ہو گا۔عبداللہ تیماپوری کا ابتلا: عبداللہ تیما پوری کا ایک ابتلا ہے۔مجھے دکھایا گیا کہ وہ مجنون ہے۔میں نے اس کو یہ کہہ دیا اس نے کہا کہ پھر توجہ کرو۔تب میں نے اس کو کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بے ادبی ہے مجھے اب اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔اس پر اس نے کہا کہ ہاں اگر میں روزہ رکھوں تو جنون ہو جاتا ہے پھر اس نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا۔میں نے اس سے بیعت ارشاد لے لی اور اس نے بیعت ارشاد کر لی۔اس کے بعد اس نے ایک کتاب لکھی اور میرے پاس لایا اور کہا یہ مجھ کو براہ راست ملا ہے۔میں نے کہا تم نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور کیا وہ بیعت ارشاد نہیں ہے؟ آخر اس نے اقرار کیا۔تب میں نے کہا کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہو گئی۔اب وہ کہتا ہے کہ میں تمہیں خلافت سے معزول کرتا ہوں۔پھر یہاں تک ہی بس نہیں کی بلکہ کہتا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی مجھے شناخت نہیں کیا اور اسی وجہ سے ان کی عمر میں ۱۵ سال کی کمی ہو گئی۔پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت صاحب کی تعلیم کمزور تھی۔پھر اپنے دعوے کے ثبوت میں کہا کہ مجھ میں چالیس آدمی کی قوت ہے اور جو کوئی میری بیعت کرے اس میں پندرہ آدمی کی قوت آجاتی ہے۔حافظ روشن علی نے ہاتھ پکڑا تو چلّا اٹھا اور کہا کہ میری غلطی تھی اس قوت سے مراد روحانی قوت تھی۔یہ ایک ابتلا ہے مجھے خدا تعالیٰ نے اس کو مجنون دکھایا ہے۔ان دعاوی کے ساتھ وہ اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔بعض لوگ معذور ہیں جیسے شیخ نور احمد (شیخ نور احمد مالک ریاض ہند پریس امرتسر اور مولوی غلام رسول امرتسری نے تحریری طور پر حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور توبہ کر لی ہے۔ایڈیٹر الحکم)وہ رات کو کچھ کہتا ہے تو شیخ