خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 367 of 660

خطابات نور — Page 367

مصلحت ان پر کہا ہے۔غرض اس ساری تحقیقات کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قرآن کریم ہی کامل کتاب ہے۔اور پھر جب قرآن مجید میں تدبر کیا اور سالہا سال تک تدبر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ سے بڑھ کر کوئی نمونہ اس پر عملدرآمد کا نہیں۔کتاب و سنت: پھر بخاری سے بڑھ کر کوئی کتاب تاریخی روایت کے لحاظ سے نہیں۔اس کے ماوراء ہمارے سلسلہ میں قرآن کو کتاب اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل درآمد کو سنت کہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ چند مثالیں دوں تاکہ جو تفرقہ ان میں ہے وہ معلوم ہوجائے۔جب بخاری امام نہ ہوئے تھے تو بھی وہ مسلمان تھے۔نماز پڑھتے، حج، روزہ، زکوٰۃ، اعمال الاسلام کا پابند تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ علم جو ارکانِ اسلام اور اعمال کا ان کو تھاوہ اسی سنت متواتر کے ذریعہ ان کو ملا تھا۔امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ابھی امام نہ ہوئے تھے اور فقہ نہیں لکھی گئی۔محیط اور مبسوط کے مسائل منہ سے نہ نکلے تھے تو کیا وہ مسلمان نہ تھے؟ کیا ہدایہ اور قدوری پڑھ کر وہ مسلمان ہوئے تھے۔نہیں بلکہ وہ جس ذریعہ سے نیک تھے وہ یہی سنت اور اہل سلسلہ کا تعامل تھا۔صحابہ کے وقت تو یہ کتابیںنہ تھیں۔انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کرتے دیکھا وہی کرتے تھے۔وضو کرتے دیکھتے تھے تو اسی طرح وضو کرتے نماز پڑھتے دیکھتے، نماز پڑھ لیتے۔روزہ رکھتے دیکھا تو روزہ رکھتے اور اسی طرح آپ کو دیکھ کر حج کرلیا۔اخلاق فاضلہ سے متصف پایاآپ بھی ہوگئے۔یہی سنت ہے۔ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔میں چاہتا ہوں کہ بہت سے دوست اسے یاد رکھیں اور اسے پہنچاویں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمد دنیا کے بچے لڑکیاں جوان آدمی جوان عورتیں بوڑھے مرد، بوڑھی عورتیں، یہود،عیسائی غرض ہر طبقہ کے لوگ دیکھتے تھے۔اسی تواتر سے وہ علم ہم تک پہنچا ہے۔اب اگر کوئی اس میں ترمیم کرکے کہے کہ نماز کی اتنی رکعت ہے۔وہ تمام مجنونوں سے بدتر مخبوط الحواس ہے۔صلوٰۃ کے معنی صبح، ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی سترہ رکعت فرض ہیں۔وتروں کو زیادہ مؤکد کریں تو بیس رکعت اور اس کے سوا بیس رکعت اور یہ عمل درآمد تواتر سے ثابت ہے اس کے لئے کسی کتاب کی ہمیں ضرورت نہیں۔