خطابات نور — Page 362
کچہری سے نکل کر گھر کو آیا مگر وہ گھر نہیں پہنچا۔اس کے متعلق بہت دریافت کیا۔اب تک پتا نہیں۔اس واقعہ پر دو سال گزرنے کے بعد ایک دوست آیا۔اس نے کہا کہ وہ مرگیا جب پوچھا کہ کہاں تو اس نے کہا کہ وہ پاپیادہ حج کے لئے بمبئی جارہا تھا۔کلیانی میں پہنچ کر مرگیا۔تب اس کی غریب الوطنی کی حقیقت مجھ پر کھلی کہ دل میں کیسی سچی توبہ کی تھی اور وہ خدا تعالیٰ نے قبول کرلی۔یہ باتیں میں ان لوگوں کے لئے پسند کرتا ہوں جو مجھے راستباز یقین کرتے ہیں اور مجھے ان باتوں کے پہنچانے اور سنانے میں قطعاً کوئی دنیوی غرض نہیں۔اگر کوئی غرض ہوتی تو جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ سب سے پہلے منکر ہوجاتے۔خدا تعالیٰ کے احسانات: میں روٹی خدا کی دی ہوئی کھاتا ہوں۔اس معاملہ میں گھر والوں کا بھی مجھ پر احسان نہیں کہ بیوی پکائے تو کھائوں۔کپڑا اسی کا دیا ہوا پہنتا ہوں۔رہنے کو اسی نے مکان دیا ہوا ہے۔اب تھوڑی عمر باقی رہ گئی ہے کیا معلوم ،ہے بھی یا نہیں۔پھر وہ کیا غرض ہوسکتی ہے جو مجھے خلاف بیانی کی ترغیب دے۔بچے اس قدر چھوٹے ہیں کہ وہ کچھ سمجھ بھی نہیں سکتے۔شاید خواب و خیال کی طرح بڑے کو یاد ہو کہ ہمارا ابّا ایسا ہوتا تھا۔پھر کیا میں ان کے لئے کچھ جمع کرنا چاہتا ہوں ہرگز نہیں۔راستباز کا واقعہ یقین کرنے کے لئے اعلیٰ مقام ہے۔اسی طرح پر اللہ جل شانہ‘ کی ہستی پر ایمان آتا ہے۔اب ہم جاپان اور لنڈن پر تو یقین رکھتے ہیں۔وہاں کے آئے تاروں کو پڑھ کر کبھی وہم نہیں کرتے کہ یہ غلط ہیں۔پھر کس قدر افسوس ہوگا اگر ہم ان راستبازوں کے منہ سے سن کر یقین نہ کریں جن کی راستبازی اور اخلاق کے پشّہ کے برابر بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔انہوں نے خدا تعالیٰ سے سن کر کہا کہ خدا نے کہا ہے۔’’انا الموجود‘‘ غرض راستبازوں کے منہ سے سن کر تکذیب نہ کرو۔یہ راستبازوں کی جماعت انبیاء علیہم السلام اور ان کے خلفاء و نواب کی جماعت ہے۔رجوع بہ مطلب اصلی: ہاں اس رکوع کے شروع میں علم اور بے علمی کے متعلق بتایا ہے کہ علم اور بے علمی برابری نہیں کرتے۔علم بڑی عجیب چیز ہے۔انبیاء کا علم، اللہ کی کتابوں کا علم، ملائکہ کا علم، جزا و سزا، جنت و نار اور مقادیر الٰہیہ کے علوم ایسی راحت