خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 359 of 660

خطابات نور — Page 359

فطرت نے کان دئیے ہیں وہ عمدہ بات سننا چاہتے ہیں خواہ وہ کامیابی کی کوئی خبر ہو خواہ عمدہ آواز ہو، خواہ صحت و عافیت کا نسخہ ہو۔بہرحال قدرت نے کان کے لئے آواز کا سامان دیا ہے۔میری ناک میں خاصیت ہے کہ نہایت ہی عمدہ گلاب کا عطر جو پچاس ساٹھ روپیہ تولہ کا ہو وہ اسے بہت خوش کرتا ہے۔پھر بوباس راحت کا موجب ہوتی ہے۔غرض فطرت نے اس کے لئے بھی سامان دیا ہے۔میری زبان ذوق کا علم رکھتی ہے۔وہ قسم قسم کے عمدہ سے عمدہ کھانے کبھی نمکین کبھی مرچ کے مزے، میٹھے، پھیکے، سیٹھے، ترشی اور شیرینی ملا کر غرض ہر قسم کے مزوں سے زبان لطف اٹھانا چاہتی ہے اور خدا کا شکر ہے کہ یہ سب سامان اس کے لئے موجود ہیں۔پھر میری زبان قسم قسم کا بولنا چاہتی ہے۔عجیب عجیب قسم کے مضمون اٹھاتی ہے اور اس کا سامان موجود ہے۔اسی طرح ہاتھ پائوں اور بعض دوسرے اعضاء ہیں جن کا اگر نام لیں تو بعض شاید اسے خلاف تہذیب قرار دیں مگر میں کامل انسان کے اجزا میں ان کا کمال دیکھتا ہوں۔(یہاں تک کہ اگر وہ کمزور ہوں تو ایسے شخص کو مردوں کی فہرست سے خارج کرکے نامرد کہا جاتاہے۔ایڈیٹر) فطرت نے ان تمام اعضا کی سیری اور سرور کا سامان رکھا ہے۔جب ٹٹولنے پر آتے ہیں تو بعض موقع پر درشتی اور بعض موقع پر نرم و ملائم عجیب بہار بخشتا ہے۔کوئی مخفی طاقت اور راز ہے جو عورتوں کے دیکھنے سے بدن میں جوش پیدا ہوتا ہے۔غرض ان تمام قواعد قویہ سے یقین پڑتا ہے اور میں اس سے بھی اعلیٰ یقین پر ہوں کہ روح میں بقا کی تڑپ ہے۔اگر کروڑدرکروڑ اور سنکھ در سنکھ سال بھی حیاتی ملے لیکن جب اس میں فنا ہو پھر وہ میرے دل کو خوش نہیں کرسکتی۔عارضی نجات پر قصہ: اس موقع پر مجھے ایک عزیز کی بات یاد آئی۔وہ ہندو تھا اور پھر مسلمان ہوگیا اور اس کو ایک آریہ نے کہا کہ تم ہم میں واپس آجائو۔ہم تمہیں ملانے کو تیار ہیں۔اس پر اس نے اس آریہ کو کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے ابدی نجات کی تڑپ ہے اور یہ تمہارے ہاں نہیں ہے۔یہاں مجھے یہ خوشی تو ہے کہ ابدی نجات ملے گی اس پر آریہ کو خاموش ہونا پڑا۔