خطابات نور — Page 333
فاجروں کو بھی پسند آنے لگتا ہے۔روٹی، کپڑا، مکان وغیرہ چیزیں جو انسان کو اچھی معلوم ہوتی ہیں اور ان سے محبت کرتا ہے تو اس کی جڑ بھی احسان ہی ہے۔دوائی جو آنکھ میں ڈالتے ہیں اگرچہ وہ لگتی ہے اور تکلیف ہوتی ہے تاہم اچھی معلوم ہوتی ہے۔ایسا ہی لباس وغیرہ کا حال ہے۔بعض چیزوں کے حسن کو بیان بھی نہیں کرسکتے۔(اس موقع پر حضرت نے ایک نابینا کی مثال بیان کی جس کو کبوتر بازی کا شوق تھا اور جب کبوتر اڑاتا تو منہ اٹھائے ہاتھ پر ہاتھ ہاتھ مار کر مزہ لیتا) یہ بھی ایک حُبّ ہے کہ انسان اسے بیان نہیں کرسکتا۔میں طالب علم تھا میرے ایک محسن مکرم عنایت فرما عبدالرشید مراد آبادی تھے۔انہوں نے کہا کہ میرے ایک آشنا نے مجھ سے کہا کہ میں بنارس کے ایک لڑکے پر عاشق ہوں۔ہم دس بارہ آدمی اس کو دیکھنے گئے کہ وہ کون بنارسی لڑکا ہے جس پر یہ عاشق ہیں۔اس نے سوچا کہ ان کی آنکھیں تو اس طرح سے نہیں دیکھتی ہیں جس طرح پر میں دیکھتا ہوں۔ممکن ہے کہ جن وجوہات سے میں اسے پیار کرتا ہوں ان کے نزدیک وہ کچھ بھی نہ ہوں۔اس لئے اس نے ان سے کہا کہ ٹھہرو، میں دیکھ آئوں کہ وہ مکان پر بھی ہے یا نہیں۔وہ ایک چکر لگا کر آگیا اور کہا کہ وہ آج مکان پر نہیں ہے۔میں نے کہا کہ یہ بھی ایک نکتہ ہے کہ حُبّ ہوتی ہے مگر سمجھ ہی نہیں آسکتا۔اس کو حب لا مرما کہتے ہیں۔بعض لوگ سورۃ یوسف پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوسفؑ بڑے ہی خوبصورت تھے۔مگر انہیں آپ کا عشق نہیں آتا۔اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کا بیان نہیں کرسکتے۔میرے ایک دوست یہاں آئے تھے۔وہ کانگڑہ میں رہتے ہیں۔انہوں نے مجھے کہا کہ آپ وہاں آئیں۔عجیب عجیب دلربا سینریاں ہیں۔میں نے کہا کہ کیا کیا سینری ہے بیان تو کرو۔اس پر کہنے لگے کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔مگر آہ یہ سب محبوب جو میں نے بیان کئے زوال پذیر ہیں۔ایک شخص ایک عورت کو بھگا لے جاتا ہے صرف آنکھ کی خوشی کے لئے۔چند روز کے بعد جب معلوم ہوا کہ اسے آتشک تھا یا عورت کی ناک کٹ گئی تو اسے چھوڑنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کسی طرح سے اس بلا سے رہائی ملے۔اس محبوب کو پھر بلا سمجھتا ہے۔میں نے ایسے گویّے دیکھے ہیں کہ وہ عقل فکر حیران کردیتے ہیں۔مگر ذرا آواز بگڑی تو پھر گلستان کا یہ مصرعہ