خطابات نور — Page 332
غرض محبت ایک چیز ہے جو آنکھ، کان، زبان ، لمس اور شہوت سے پیدا ہوتی ہے۔اب اس سے آگے چلیں تو یہ بات کھلتی ہے کہ اگر یہ چیزیں دنیا میں موجود نہ ہوتیں تو یہ محب اور محبوب کہاں ہوتے؟ اس سے معلوم ہوا کہ وجود جڑ ہے تمام محبتوں کی۔جس قدر اس میں ترقی ہوگی اسی قدر محبت میں ترقی ہوگی مثلاً دیکھا کہ ایک عورت ہے اس کی شکل چڑیل کی سی ہو انسان اس سے محبت نہیں کرسکتا۔بدشکل انسان ہے تو موجود مگر وہ محبوب نہیں، پاخانہ موجود ہو تو وہ مطلوب نہیں ہوسکتا۔اس سے معلوم ہوا کہ وجود کے ساتھ کمالات ہوں تو وہ محبوب ہوسکتا ہے۔پس حُبّ کا وجود موجود سے ہوتا ہے بشرطیکہ اس وجود کے ساتھ کمال ہو۔جس قدر کمالات میں ترقی ہوگی اسی قدر محبت زیادہ ہوگی۔جہاں کمال پیدا ہوتا ہے محبت بھی جلوہ گر ہوجاتی ہے۔لیکن اگر اس کمال میں بقا نہ ہو توکچھ بھی نہیں۔مثلاً آنکھ کے سامنے ایک خوبصورت شیٔ جلدی سے گزر جاوے تو وہ اتنی پسندیدہ نہیں ہوسکتی بہ نسبت اس کے کہ وہ زیادہ دیر تک رہے۔پس ضرور موجود ہو۔اس کے ساتھ کمال ہو اور کمال کے ساتھ بقاء ہو۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ خود کشی کیوں کرلیتے ہیں۔اس کی جڑ یہی ہے کہ اگر وہ کمال کا بقاء دیکھ لیتے تو ہرگز ایسا نہ کرتے۔یہ جو ہم کہتے ہیں کہ آنکھ، ناک اچھی ہو تو یہ اس قسم کی محبت ہے۔لوگ مال و دولت اور دوستوں کو پسند کرتے ہیں۔یہ بھی دراصل محبوب کے لئے ہے۔غرض جو کچھ ہے حسن و جمال کی خاطر ہے۔جس کے سبب ان چیزوں کو پسند کرتے ہیں اس کے آگے ایک اور چیز ہے اور وہ احسان ہے۔آنکھ، ناک، کان کا کوئی مزہ نہ ہو تو احسان کی وجہ سے بھی محبت ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر کے سامنے ایک خطرناک مریض ہو۔زخموں میں پیپ پڑچکی ہو۔بدبو آتی ہو۔ڈاکٹر اس کا علاج کرتا ہے۔ڈاکٹر کی کوئی چیز اسے پسند نہ ہو۔مگر مریض ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔کیوں؟ جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا (کنزالعمال فی سنن الاحوال زیر حرف میم الباب الثالث فی الحکم والجوامع الکلم) انسانی فطرت میں یہ امر ہے کہ وہ اس شخص سے جو اس کے ساتھ احسان کرتا ہے محبت کرتا ہے۔پس ایک ذریعہ حُبّ کا احسان بھی ہے۔احسان ایک ایسی چیز ہے کہ بعض وقت فاسقوں،