خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 328 of 660

خطابات نور — Page 328

پھر ایک اور امر ناک کے متعلق ہے جس کو کہتے ہیں کہ اگر فلاں کام نہ کیا جائے تو ناک کٹتی ہے اور یہ رسوم اور رواج ہیں۔اب تم نے دیکھ لیا کہ انسان اس حُبّ کے اندر کیا کچھ کرتا ہے اور آنکھ ، کان، زبان، ناک اور شہوت کی حُبّ کے لئے کیا کرتا ہے۔یہ تم نے سمجھ لیا کہحُبّ کیا چیز ہے۔وہ خواہش ہے لذت کی۔محب مُتَلَذِّذ ہے اور محبوب مُتَلَذَّذ ہے۔ٹٹولنے کے متعلق بھی حُبّ ہے۔اس کے لئے قسم قسم کے لباس بنا ہے اور پھر قسم قسم کی عورتوں کو چاہا گیا ہے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ غریب سے غریب آدمی بھی شادیوں پر کس قدر خرچ کردیتا ہے۔پھر مہروں کو دیکھ لو کہ لاکھ لاکھ کروڑکروڑ مہر باندھتے ہیں۔غرض یہ حُبّ ان پانچ حواسوں کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔میں نے کبھی اس پر وعظ نہیں کیا۔گویا اس مضمون پر کچھ کہنے کی یہ پہلی تاریخ ہے اور تمہارے لئے بھی یہ پہلا ہی دن ہوگا کہ حُبّ پر مضمون سنو۔اس حُبّ پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان پانچ حواسوں کے سوا ایک اور سلسلہ بھی حواس کا ہے۔چنانچہ ایک اور حس ہے جو ان پانچوں کے اختلاط اور کیمیاوی اثر کا ایک نتیجہ سمجھنی چاہئے۔اس کا نام حس مشترک ہے۔جن لوگوں نے حواس کے فلسفہ پر بحث کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جہاں پانچوں حواس جمع ہوں اور پھر ان سے الگ ہوکر جو چیز محفوظ رکھتی ہے اس کا نام خیال ہے اور اس سے پرے ایک اور باریک چیز ہے جس کو معانی کہتے ہیں۔جیسے چوہا جب بلی کو دیکھتا ہے تو وہ فوراً دہل جاتا ہے۔گویا اندر ہی اندر اسے ایک علم ہوجاتا ہے کہ یہ مجھے نہیں چھوڑے گی اور وہ گھبرا جاتا ہے۔دوسری طرف بلی کو وہ شعور ہوتا ہے کہ اب یہ بھاگ نہیں سکتا۔وہ ایک جست کرکے اسے فوراً پکڑ لیتی ہے۔۔۔۔جب اپنے بچوں کو چوہے کا پکڑنا سکھاتی ہے تو عجیب عجیب تماشے کرتی ہے۔وہ چوہے کو پکڑ کر بچے کے سامنے رکھ دیتی ہے پھر وہ پکڑتا ہے۔پھر چھوڑ کر پکڑتا ہے۔یہی حال شیروں اور بارہ سنگھوں کا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بارہ سنگھ شیر کی آواز سنتے ہی ڈر جاتا ہے اور اندر ہی اندر اس کی طاقت زائل ہوجاتی ہے۔یہ کیاسِرّ ہے۔یہ ایک طاقت ہے جو اندر معنوں کو محفوظ رکھتی ہے۔اسے حافظہ کہتے ہیں۔پھر ایک اور قوت پیدا ہوتی ہے جو متفکرہ کہلاتی ہے۔پھر دماغ میں ہزاروں قسم کی ایسی سلوٹیں اورپیچ در پیچ مقامات اور اعصاب کا