خطابات نور — Page 315
میں رہتے ہیں۔وہ بڑے کام نہیں کرسکتے۔وہ ان باتوں کو اپنی عزت سمجھتے ہیں مگر میں انہیں ذلیل سمجھتا ہوں۔اس سے میری مراد یہ نہیں کہ یہ چیزیں حرام ہیں۔اللہ تعالیٰ اگر کسی کو دے تو بیشک وہ عمدہ کھائے، عمدہ پہنے مگر ان امور میں تو غل نہ کرے اور ان باتوں کو مقصود بالذات نہ بنالے۔ہشتم۔رزیل قوم سے بھی بچتا رہے۔کیونکہ اگر انہیں دو چار جوتے بھی لگ جاویں تو پرواہ نہیں ہوتی۔نہم۔ایک نے کہا ہے کہ موت کو یاد رکھو۔دہم۔ایک نے لکھا ہے کہ شغل میں رہو۔میں‘ جب تک آنکھیں نیند سے گرا نہ دیں‘ مشغول رہتا ہوں۔یازدہم۔نشہ او رراگ سے بچے۔دو از دہم۔اپنی کمزوری اور خدا تعالیٰ کی گرفت سے ڈرے۔ان چیزوں کے مطالعہ سے میں سمجھتا ہوں شہوت کا علاج ہوتا ہے۔مجھ پر وہ زمانہ گزرا ہے اور میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔غضب کے لئے بھی یہی علاج ہے۔اس کے علاوہ اور بھی ہے۔اوّل۔اللہ کی صفت (البقرۃ :۷۳)پر ایمان ہو۔اس صفت پر ایمان سب گناہوں سے بچنے کے لئے مفید ہے۔جب ایمان ہوگا کہ چھپ کے چوری کروں گا تو ظاہر ہوجائے گی۔اسی طرح دوسرے گناہوں پر قیاس کرو۔(۲) پھر یہ مطالعہ کرے کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی پکڑ سکتا ہے۔(۳) پھر یہ سمجھے کہ میں اگر اس بدکاری کا مرتکب ہوتا تو لوگ کیا مطالعہ کرتے۔(۴) مسکرات کا ترک کرے۔(۵) سپاہیوں سے کم تعلق رکھے۔(۶) انجام کو سوچے۔(۷) طبیعات کو پڑھے۔(۸) اخلاق پڑھے۔(۹) سیاست کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔(۱۰) صوفیوں کی تصنیفات بھی پڑھے۔یہ مفید ہیں۔اب ایک حرف رہ گیا۔والحافظون لحدود اللّٰہ۔یہ بھی اپنی ذات میں بڑا بھاری مضمون ہے۔عقائد میں (جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے) غلو نہ کرے۔وہ کیا ہے۔جیسا کہ نصاریٰ نے کیا۔دَع ما ادعتہ النصاری فی نبیھم۔اسی بدعت کا نام غلو ہے۔اس لئے قرآن مجید نے ہدایت کی ہے۔(النساء :۱۷۲)۔