خطابات نور — Page 302
(النور :۶۳) اس آیت میں مومنین کی یہ صفت بتائی ہے (۸) کہ جب وہ کسی امر دین میں رسول اللہ اور اس کے جانشینوں کے ساتھ جمع ہوں اور جب تک وہاں سے اجازت نہ ہو وہاں سے اٹھیں نہیں۔پھر (۹،۱۰) آیات الٰہی سنتے ہی فرمانبرداری کے لئے کامل طور پر جھک جانا، تسبیح اور تحمید کے لئے ہوشیار رہنا (بعض اس کے معنی الحمد پڑھنا بھی کرتے ہیں) اور تکبر نہ کرنا۔چنانچہ فرمایا:(السجدۃ :۱۶)۔پھر (۱۱،۱۲،۱۳) خواب راحت کے وقت اٹھ کر یاد الٰہی میں مصروف ہونا۔خوف اور طمع پر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنا۔خدا تعالیٰ کے دئیے ہوئے سے خرچ کرنا چنانچہ فرمایا: (السجدۃ :۱۷)۔پھر (۱۴) اللہ اور رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے پسند کردہ فیصلہ سے الگ ہوجانا (الاحزاب :۳۷) پھر (۱۵ اور ۱۶) جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاوے تو بدوں عذر کے سَمِعْنَا اور اَطَعْنَاکہے (النور :۵۲)۔پھر (۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱) اللہ تعالیٰ کی اس کتاب قرآن مجید پر ایمان لانا۔تمام ان کتابوں پر ایمان لانا، جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔فرشتوں پر ایمان لانا، رسولوں پر ایمان لانا، یوم آخرۃ پر ایمان لانا جیسا کہ فرمایا: (النساء :۱۳۷)۔پھر (۲۲،۲۳،۲۴،۲۵) اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری، اللہ کے رسول کی فرمانبرداری، اولوالامر کی فرمانبرداری اور اگر ان کا حکم خلاف ہو تو اللہ اور رسول کے حکم کو مقدم کرنا (النساء :۶۰)۔اس آیت میں دو لفظوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو آج کل کی بیماریوں کے لحاظ سے بہت ہی