خطابات نور — Page 288
اٹھائیں اور ادھر طب نے یہ فائدہ دیا کہ کوئی چیز نہ دیکھی جو مفید نہ ہو۔معمولی چیزیں جن کو انسان نہایت بے پروائی سے دیکھتا ہے ایسی مفید ہوتی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ایر نے یعنی جنگلی گوبر کی راکھ کو میں نے بعض امراض میں ایسا مفیددیکھا کہ ہزاروں روپیہ بھی اس کے بدلہ میں خرچ کریں تو کم ہے۔غرض اس طرح پر اجتماع کا شوق بڑھتا گیا اور طب نے اس میں مدد دی کیونکہ طب تب چلے کہ وضیع سے لے کر شریف اور امیر سے لے کر غریب تک ہمارے ہاں جمع ہوں۔پھر نباتات اور حیوانات تک سے پیار کرو جب اس لمبے سلسلے پر میں نے غور کی تو میرے اندر ایک عجیب اضطراب پیدا ہوا اور میں نے اپنی وسیع ذمہ داری کو سوچا۔یکایک میری حالت متغیر ہوگئی اور فکر نے میرے دل پر غلبہ کیا اور میں نے مخلوقات کے ایک وسیع دائرہ میں اپنے آپ کو پایا اور میں گھبرا گیا کہ میرے فرائض بہت بڑے ہیںاور میں ایک ناتواں ہستی۔فیضان الٰہی نے کس طرح دعا کی تحریک کی: انہیں خیالات میں حضرت اقدسؑ کے زمانہ میں، میںایک دن التحیات کے اندردعا کررہا تھا کہ یکایک میری توجہ مثنوی کی طوطی کی حکایت کی طرف پھر گئی اور وہ یہ ہے کہ ایک امیر تاجر نے ہندوستان کے سفر کا ارادہ کیا اور اپنے متعلقین اور دوستوں سے کہا تم اپنی اپنی فرمائشیں مجھے بتادو۔چنانچہ انہوں نے بتائیں۔اس کا ایک طوطا بھی تھا۔اس سے بھی پوچھا اس نے کہا اور کوئی فرمائش نہیں مگر ایک بڑے درخت پر طوطوں کا ایک جھنڈ ملے گا وہ میرے بھائی ہیں تم ان کو میرا سلام پہنچا دینا۔غرض جب وہ تاجر اس مقام پر آیا تو اس نے طوطوں کے ایک جھنڈ کو دیکھ کر اپنے طوطے کا سلام دیا تو ایک طوطا پھڑپھڑاتا ہوا نیچے گر پڑا۔تاجر کو یہ دیکھ کر صدمہ تو ہوا مگر وہ مجبور تھا اسے کیا خبر تھی کہ اس کا انجام یہ ہوگا۔غرض جب سوداگر واپس گیا تو اس نے جہاں اپنے دوستوں اور متعلقین کو ان کی فرمائشیں دیں۔وہاں اس نے اپنے طوطے کو وہ قصہ اس کے سلام کا بھی سنایا کہ میں نے سلام کہا اس کا نتیجہ یہ ہوا جونہی اس طوطے نے یہ واقعہ سنا وہ پھڑپھڑایا اور تڑپ کر گر پڑا۔تاجر کو یہ دیکھ کر اور بھی صدمہ ہوا کہ اس کی بھی جان گئی۔اس نے بہرحال اسے پنجرہ سے نکال کر پھینک دیا تب وہ طوطا فوراً اڑ کر درخت پر جا بیٹھا اور اس نے تاجر کو مخاطب کرکے کہا کہ میں نے سلام