خطابات نور — Page 287
پر انا للّٰہ کہنے والوں کو انعام دیتے ہیں اس لئے الحمد ہی کا موقع ہے جب سب کچھ خدا ہی کا ہے اور تجھے اس غم و ہم کے بدلہ اسے بہتر دینے کا وعدہ کرتا ہے تو الحمد کا خوب موقع ہے۔اس طرف سے ایک پھوٹی کوڑی بھی جاوے تو ادھر سے خزانہ ملتا ہے۔ہر بلاکین قوم را حق دادہ است زیر آن گنجِ کرم بنہادہ است اخلاقی تربیت اور ایک قرآنی رکوع کاحل: اس سے مجھے اتنا ہی فائدہ نہیں ہوا کہ میں نے زور سے الحمد پڑھی بلکہ اخلاقی فائدہ یہ ہوا کہ جب سب کے سب محتاج ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں یہاں تک کہ چوہڑی نہ ہو یا حجام یا دھوبی نہ ہو تو سخت مشکلات پیش آئیں۔میرے گھر میں یہ جھگڑا ہی ہوا کرتا ہے کہ چوہڑی کو دو دفعہ آنا چاہئے یا تین دفعہ۔بہرحال میں نے ان ضرورتوں کے سلسلہ پر غور کیا تو سورۃ حجرات کا یہ رکوع حل ہوگیا۔(الحجرات :۱۲) کیا معنی جب تم ایک دوسرے کے محتاج ہو تو پھر ایک دوسرے کو ہنسی ٹھٹھا کیوں کرتے ہو۔کوئی عورت کسی عورت سے اور کوئی مرد کسی مرد سے ٹھٹھا نہ کرے ممکن ہے کہ وہ جسے تم نے ہنسی کی تم سے بہتر ہوجائے۔یہ سچ ہے کہ یہ سب چیزیں ایک پہلو سے مفید ہیں اور ایک پہلو سے مضر بھی یا طیب بھی اور خبیث بھی۔برسات میں ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے اسے عربی میں جعل کہتے ہیں اس کیڑے کا کام یہ ہے کہ وہ گندگی کی گولیاں بنایا کرتا ہے۔اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ آٹھ پہر کے اندر اسے مٹی کردیتا ہے مگر مشک یا گلاب سے مرجاتا ہے۔تربیت کا دسواں مرحلہ: اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ دنیا میں مختلف اشیاء ہیں اور ہر ایک اپنی ذات میں خوبیاں رکھتی ہے چوہڑی نہ ہو تو کیاخرابیاں پیدا ہوں اسی سے قیاس کرلو مگر انسان کو چاہئے کہ اس کی خوبیوں کا متوالا رہے اور نقصوں کی پروا نہ کرے۔پس صمد کے لفظ نے تو یہ فائدہ دیا کہ جب ہم صمدیت کے مظہر ہیں تو ایک دوسرے سے فائدہ