خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 285 of 660

خطابات نور — Page 285

امیرالمؤمنین کی دعا کا ابتدا: میری دعائوں کا ابتداء ہوتا ہے۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَا اِلٰـہُ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب الدعاء ، والتکبیر،والتھلیل) اس دعا میں تو بہت لفظ ہیں مگر میں اس وقت کے حسب حال اور تمہارے ساتھ خطاب کے موافق جس لفظ سے دل بستگی ہے اس کی تشریح کروں گا اور وہ لفظ صمد ہے۔اللہ نے ہم کو محتاج پیدا کیا ہے۔انتم الفقراء الی اللّٰہ یہ صمد کے معنی ہیں۔اس نام نے عجیب نکتہ معرفت میرے دل میں پیدا کیا کہ تم فقراء ہو۔جب یہ بات دل میں آئی تو میں نے دیکھا کہ اللّٰہ جلّ شَانہٗ کے جو اسماء صفات ہیں وہ مخلوق کے لئے بھی رکھے گئے ہیں مثلاً وہ سمیع بصیر ہے۔صفات الٰہیہ پر غور: تو مخلوق پر بھی یہ لفظ بولے گئے اس کا نام رؤف الرحیم ہے تو اس کے رسول کو بھی رؤف الرحیم کہہ دیا۔غرض صفات الٰہیہ پر غور کرتے کرتے عجیب تماشا گاہ مجھے نظر آیا اور میں نے دیکھا کہ کس طرح پر اللہ تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری مخلوق پر ہوتی ہے۔اس پر غور کرتے کرتے میں اس نکتہ پر پہنچا کہ جب میں صمدیت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہوں اور اس کے صفات کا پر تو انسان پر بھی پڑتا ہے۔تو اسی صمدیت کے مظہر ہونے کی وجہ سے بعض میرے بھی محتاج ہیں اور بعض کا میں بھی محتاج ہوں اس فکر نے شفقت علیٰ خلق اللہ کی تعلیم: مجھے شفقت علیٰ خلق اللہ کی تعلیم دی اور یہ تعلیم گویا لفظ صمد کے ذریعہ ملی کیونکہ میں نے سمجھ لیا کہ جب صمد کے مظہر میں تو کریم رحیم کے بھی مظہر ہیں۔پھر ایک طرف اپنی محتاجی کو دیکھا کہ ایک چوہڑی تک کا محتاج ہوں اور وہ مجھ سے روپیہ لینے کی محتاج ہے۔پھر معاً دھوبی کو دیکھا وہ قیمت کا محتاج ہے۔میں کپڑے کی صفائی کا۔اس طرح پر ایک وسیع سلسلہ میرے سامنے آیا کہ مخلوق میں سے ایک دوسرے کا محتاج ہے۔اس لئے میں نے عامۃ الناس کی ہمدردی کے لئے علم طب کو مناسب حال سمجھ کر سیکھا۔اس سلسلہ احتیاج کو میں نے پھر قرآن شریف میں دیکھا تو یہ آیت نظر آئی۔ (الانعام :۱۲۹)