خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 660

خطابات نور — Page 225

جب عائشہؓ کے حق میں تم لوگوں نے برُا فقرہ سنا تھا تو نیک گمانی سے کیوں کام نہ لیا۔پس میں تمہیںیہی فقرہ سنانا چاہتا ہوں کہ نیک گمانی سے کام لیا کرو۔خدا فرماتا ہے کہ کیوں تم نے ایسی باتیں سن کر نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات کہنا مناسب نہیں۔پس یہ عیب مردوں میں بھی ہے پھر عورتیں اس پر بڑے بڑے منصوبہ باندھتی ہیں۔اور اس پر بڑے بڑے حکایات چلاتی ہیں۔پس خدا نے اس سے منع کیا ہے۔اس سورۂ شریف میں ایک اور حکم فرمایا ہے (النور: ۲۷) یعنی اچھوں کے لئے بیبیاں بھی اچھی ہوتی ہیں اس کے واسطے بڑے کلمات نہ نکالو۔پھر فرمایا یہ کہہ دو (النور:۳۲) کہ اپنی آنکھیں نیچے رکھیں شرم گاہوں کو محفوظ رکھیں اور اپنی زینت کو نہ دکھاویں سوائے خاوند اور باپوں وغیرہ کے اور سوائے اپنی خاص عورتوں کے۔اس پر بھی مجھے حیرت ہے کہ بہت کم عمل ہے۔بہت سی عورتوں سے یہی پردہ لازم ہے۔ہر ایک عورت سے بے پردگی نہ ہو۔(۴) ایک اور بات ہے بعض عورتیں قسم قسم کے دکھوں میں مبتلا ہوجاتیںاور عورتیں ان کو طعنہ یا ملامت کرتی ہیں ایسی عورتیں بڑی بدطینت ہوتی ہیں مثلاً اگر بیوہ کو نکاح کرنا موجب ملامت ہے تو جناب خدیجہؓ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے خاوندتھے۔پس ایسی طاعن کس کو طعنہ دیتی ہے۔بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیبیوں میں سے صرف حضرت عائشہؓ صدیقہ کنواری تھیں۔طلاق بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا کرتی تھی۔چنانچہ حضرت زینب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش کر کے زید سے نکاح کرایا۔مگر اس نے طلاق دے دی۔پس پھر بڑی بدقسمت ہے وہ عورت جو مطلقہ کو طعن دیتی ہے۔پھر قرآن نے حکم دیا ہے کہ اے ایمان والو تمہارے گھر میں تین وقتوں میں غیر مرد اور نابالغ لڑکے نہ آویں قبل از نماز فجر‘ دوپہر اور بعد عشاء کے کیونکہ یہ خاص احتیاط کا وقت ہے۔پھر اگر بوڑھی عورت بھی ہو تو اپنے کپڑے احتیاط سے رکھے اور اپنی زینت دوسرے پر ظاہر نہ کرے پھر کچھ مال خدا نے مردوں کا اور عورتوں کا بنایا ہے۔(۵) ایک اور عیب ہے کہ بہت سی لباس پہننے والیاں ہیں پر خدا کے نزدیک ننگیاں ہیں۔بہت