خطابات نور — Page 211
خدا کے مقرّب ہیں۔عیسائی کہتے ہم مقرّب ہیں کیونکہ مسیح کفارہ ہو گیا میں کہتا ہوں کہ آتشک کس کو ہوتا ہے تم کو یا مسیح کو۔ہر انسان صرف دعوے سے کامیاب نہیں ہو سکتا اسلام کے معنے ہیں سلامتی‘ آشتی ‘ عمدہ نمونہ مگر ایک شخص زانی فاسق‘فاجر ، معاشرت اور تمدن میں بُرا نمونہ ہے وہ ان لفظوں سے بچ نہیں سکتا۔کیوں؟اس لئے کہ (البقرۃ:۱۱۳) پھر یہی شخص فائدہ اٹھا ئے گا۔نماز کا وقت آگیا ہے۔اور شاید میری تقریر میں آپ لوگوں کی دلچسپی بھی پیدا نہ ہوئی ہو۔اس لئے میں اس کو ختم کرتا ہوں اور یہ کہہ کر ختم کرتا ہوں کہ باوجود اختلاف اغذیہ، اشربہ، صور، مکان اور شہر کے پھر بھی وحدت کی روح اگر تم میں لگی رہے تو آرام اور سکھ پائو گے تمہارے کام عمدہ طور پورے ہوں گے۔کیا پھلے ہیں وہ جو اختلاف میں اختلاف رکھتے اور اتفاق میں اتفاق۔ایسا ملک ‘ ایسا گھر ایسا شہر امن سے رہتا ہے۔لو میں سب سے رخصت ہوتاہوں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۲؎ ٭…٭…٭ ۱؎ الحکم ۷،۱۴؍دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۳تا۵ ۲؎ الحکم ۱ ۲ ؍دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ۳تا۵