خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 190 of 660

خطابات نور — Page 190

نے جہاں تک مجھے سمجھا یا ہے ہاں اس نے آپ سمجھایا ہے قرآن شریف اسی مطلب کو ادا کرتا ہے اور قرآن شریف نے اس آیت میں  (الکہف:۱۰۰) میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت  کو سورہ جمعہ ہی میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔غرض مسیح موعود کا زمانہ ایک روحانی جمعہ ہے اور سے مراد وہی قوم ہو سکتی اور ہے جو مسیح موعود کو ماننے والی ہے اگرچہ عام طور پر عام مسلمان بھی اس حکم کے نیچے ہیں لیکن جو باوجود مسلمان اور مومن کہلانے کے مسیح موعود کا انکار کرتے ہیں وہ در اصل قرآن شریف کی اس آیت کے مصداق ہیں تُؤْ (البقرۃ:۸۶)پس میں یقینی طور پر سچا مصداق اس آیت کا انہیں لوگوں کو مانتا ہوں جو کل قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں اور عملی یا اعتقادی طور پر کسی حِصّہ کا انکار نہیں کرتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تم ذکر اللہ کی طرف چلے آؤ۔صلٰوۃ کیا ہے؟اس کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں دیا ہے (العنْکبوت :۴۶) نماز تمام بے حیائیوں اور بد کاریوں سے روکتی ہے پس اگر نماز پڑھ کر بھی بے حیائیاں اور بدیاں نہیں رکتی ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی تک نماز اپنے اصل مرکز پر نہیں اور وہ سچا مفہوم جو نماز کاہے وہ حاصل نہیں ہوا۔اس لئے میں تم سب کو جو یہاں موجود ہیں مخاطب کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنی نمازوں کا اسی معیار پر امتحان کرو اور دیکھو کہ کیا تمہاری بدیاں دن بدن کم ہو رہی ہیں یا نہیں۔اگر نسبتاًان میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا تو پھر یہ خطرناک بات ہے۔مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے بلایا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف آجاؤ۔۱۳؎ یہ تمہارے لئے اچھا ہے اور بیع چھوڑ دو۔میں نے اس بیع کے لفظ پر غور کی ہے کہ یہ کیوں کہا؟ انسان مختلف مشاغل میں مصروف ہوتا ہے۔ملازمت، حرفت ، زراعت وغیرہ