خطابات نور — Page 181
رحمانیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ تعریف اسی کی کی جاتی ہے جو بلا مزدوری کام آئے اور شفقت فرمائے اگر مزدوری بھی لے تو پھر تعریف کیسی !بے وجہ عنایت فرما کی ہی تعریف ہوتی ہے اور بے مانگے دینے والا رحمن ہوتا ہے۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمن کا مظہر ہوئے۔اس قسم کے رحیم و کریم عنایت فرما کے احکام کی خلاف ورزی ایک شریر النفس اور ناپاک فطرت کاکام ہے کیونکہ فطرتی طور پر بمصداق جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَیْہَا(کنزالعمال ،حدیث نمبر۴۴۱۰۲ جزء نمبر۱۶صفحہ۱۱۵)محسن کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے اور محبت کا شدید تقاضا اس کی اتباع ہے اس لئے فرمایا گیا۔(آل عمران :۳۲)جوچاہتا ہے کہ وہ مولا کریم کا محبوب ہو اس کو لازم ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے اور سچی اتباع کامل محبت سے پیدا ہوتی ہے اور محبت محسن کے احسانوں کی یاد سے بڑھتی ہے جو شخص اس محسن اور عنایت فرما کی خلاف ورزی کرتا ہے جو بلا وجہ اور بلا مزد مروت و احسان کرتا ہے وہ سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہوتا ہے اسی لئے ابو الحنفاء کے منہ سے قرآن شریف میں اب آذر کو یہ کہلوا دیا َ (مریم :۴۶)یعنی جس نے بلا وجہ تم پر احسان کیا تیرا قلب اچھا ہوتا تو اس کی محبت میں تو ترقی کرتا برخلاف اس کے تو نے بتوں کی پرستش کی۔پس اس رحمانی صفت کے انکار کی وجہ سے عذاب بھی شدید آئے گا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پہلو سے بھی رحمانیت کے مظہر تھے کہ آپ قرآن جیسی رحمت، شفا ،نور ،امام کتاب لے کر آئے اور قرآن کا نزول رحمانی صفت ہی کا اقتضا تھا جیسے فرمایا (الرَّحمٰن:۲‘۳ )قرآن کا نزول چونکہ اس صفت کے نیچے تھا آپ جب معلّم القرآن ہوئے تو اسی صفت کے مظہر بن کر باوجود اس کے کہ ان سے دکھ اٹھا ئے مگر دُعا، توجہ، عقد ہمت اور تدبیر کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ آخر آپ کامیاب ہوگئے۔پھر جن لوگوں نے آپ کی سچی اور کامل اتباع کی ان کو اعلیٰ درجہ کی جزا ملی اور ان کی تعریف ہوئی۔اس پہلو سے آپ کا نام احمدؐ ٹھہرا کیونکہ دوسرے کی تعریف جب کرتا ہے جب فائدہ دیتا ہے چونکہ آپ نے عظیم الشان فائدہ دنیا کو