خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 172 of 660

خطابات نور — Page 172

عزم ، یہ استقلال اور عقد ہمت مامور کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ملتی ہے اور یاد رکھو نہیں ملتی ہے تم مامور من اللہ کو اس کے عقد ہمت اور توجہ تام سے بھی شناخت کر سکتے ہو۔بے شک خدا تعالیٰ مضطر کی دُعا سنتا ہے جب انسان مضطر ہو تو کیوں نہ سنے میں دیکھتا ہوں کہ اپنی بیماری یا دوسرے بیماروں کو دیکھتا ہوں تو میں مضطر ہوتا ہوں اور میرا مولیٰ میری دُعا سنتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صورت جاتی رہتی ہے تو پھر وہ حالت پیدا نہیں ہوتی اس وقت میں اپنے نفس کو کہتا ہوں کہ تو مزکّی نہیں ہو سکتا اس وقت مزکّیوہی ہو سکتا ہے جو ہر حالت میں مسیح کی وفات کو لے آتا ہے۔ایک شخص نے عرض کی کہ میں قرآن پڑھایا کرتا ہوں مجھے کوئی نصیحت فرمایئے۔فرمایا قرآن شریف پڑھایا کرتے ہو تو بس یہی کافی ہے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنے اِنِّیْ مُمِیْتُکَ پڑھا دیا کرو اب غور کرو کہ کس قدر عقد ہمت ہے! کیسی توجہ ہے !ساری نصیحتوں میں اسے یہ ایک ضروری معلوم ہوئی ہے۔مجھ سے اگر وہ شخص پوچھتا تو شاید سینکڑوں نصیحتیں کرتا اور وہ بظاہر ضروری بھی ہوتیں مگر نہ کرتا تو یہی نہ کرتا اور یہی سب سے اہم ہے۔یا کسی اور سے وہ پوچھتا تو وہ اپنی جگہ سوچ لے کہ کیا وہ یہی نصیحت کرتا جو اس مزکّینے کی ؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہر گز نہ کرتا۔یہ اسی کا کام ہے دوسرے کاہو ہی نہیں سکتا اور یہی تو بتاتا ہے کہ یہ کسر صلیب کے لئے آیا ہے۔۷؎ یہ یقین رکھو کہ جب تک خد اتعالیٰ کے فضل کے جذب کرنے کے لئے اضطراب اور سچا اضطراب نہ ہو کچھ نہیں بنتا۔مسیح کی موت معمولی بات نہیں یہ وہ موت ہے جو عیسوی دین کی موت کا باعث ہے۔اس قوم کو اگر کوئی جیت سکتا ہے تو اس کے لئے یہی ایک گر ہے اور غور کر کے دیکھ لو کہ اس کے لئے اس نے کس قدر دُعائیں کی ہوں گی دل میں کس قدر جوش اٹھتے ہوں گے ہم تو ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے کہ ایک آدمی مر گیا بس مر گیا بات کیاہے مرا ہی کرتے ہیں مگر نہیں اس کے حل سے سب کچھ حل ہے یہ فہم جو اسے دیا گیا ہے یہ فہم مامور من اللہ کے سوا دوسرے کو نہیں ملتایہ اضطراب اور جوش دوسرے کا حِصّہ نہیں ہو سکتا اگر کوئی دعویٰ کرے تو خیال باطل اور وہم محال ہے۔پھر اختلاف اندرونی اور بیرونی پر نظر کرو کہ کیا حالت ہو رہی ہے ایک کہتا ہے بائیبل میں یہ ہے دوسرا کہتا ہے قرآن میں یہ ہے حضرت صاحب مثال دیا کرتے ہیں کہ انہوں نے مداری کے