خطابات نور — Page 171
چونکہ اس میں قرآن نازل ہوا ،یہ برکا ت الٰہیہ کے نزول کا موجب ہے اس لئے وہ اصل غرض جو میں ہے حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح پر جس امر کو لو یا جس نہی کو لو قرآن نے اس کے اسباب اور نتائج کو واضح طور پر بیان کیا ہے اور نہ صر ف بیان کیا ہے بلکہ ان کے نتائج سے بہرہ مند کر کے دنیا کو دکھادیا ہے۔آخرت کے وعدے تو آخرت میں پورے ہوں گے اور ضرور ہوں گے مگر اس دنیا میں ان سے حِصّہ دیا اور ایسا حِصّہ دیا کہ اربعہ متناسبہ کے قاعدہ کے موافق وہ آخرت پر بطور دلائل اور حجج کے ٹھہرے جن کو دیکھ کر اب کوئی آخرت کا انکا ر نہیں کر سکتا۔صحابہ ہی تک وہ فیض اور فضل محدود اور مخصوص نہ تھا اب بھی اگر کوئی قرآن شریف پر عمل کرنے والا ہو خلوص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آوے وہ ان انعامات اور فضلوں سے حِصّہ لیتا ہے اور ضرور لیتا ہے اس وقت بھی لیتا ہے۔دیکھو ہمار امام ان وعدوں اور فضلوں کا کیسا سچا نمونہ اور گواہ موجود ہے۔غرض سب کچھ قرآن میں ہے مگر مزکّی کے بغیر، معلّم کے بغیر، وہ تزکیہ اور تعلیم نہیں ہوتی۔مزکّی اپنی کشش اور اثر سے تزکیہ کرتا ہے ا ور ان انعامات کا مورد بنانے میں اپنی دُعا، عقدہمت، توجہ تام سے کام لیتا ہے جو دوسرے میں نہیں ہوتی ہے۔ایک بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ وفات مسیح پر اس قدر زور کیوں دیا جاتاہے۔ثابت ہو گیا کہ وہ مر گیا اب اس کی کیا ضرورت ہے کہ بار بار اسی کا تذکرہ کیا جاوے ؟ میں نے اس کو کہا کہ یہی وہ سِرّ ہے جس سے یہ مسیح موعود بنایا گیا اور جو کسر صلیب کا تمغہ لیتا ہے تم اور میں اور اور اس قابل نہیں ہوئے یہ ثبوت ہے اس کے خدا کی طرف سے ہونے اور اس کے کامیاب ہو جانے کا۔میں سچ کہتا ہوں اور ایمان سے کہتا ہوں کہ میری آنکھ نے وہ دیکھا جو بہت تھوڑوں نے ابھی دیکھا ہوگا میں دیکھ چکا ہوں کہ کسر صلیب ہو چکی میں نے تو اسی روز اس کا مشاہدہ کر لیا تھا جب ا س نے امرتسر کے مباحثہ میں وہ اصل پیش کی جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اس سے بھی بہت عرصہ پہلے مجھے اس کی خوشبو آرہی تھی اندر باہر جہاں کہیں ہو کوئی بھی مضمون ہو جس پر یہ بول رہا ہو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ خواہ وہ وفات مسیح سے کتنا ہی غیر متعلق ہو مگر وفات مسیح کا ذکر ضرور ہی کرے گا یہ