خطابات نور — Page 144
پس دوسرے کو کسی کام سے روکنا بڑا بھاری کام ہے۔مومن جب آپ کامل ہو تو اس کو لازم ہے کہ دوسرے کی تکمیل کا فکر کرے اوریہ تب ہوتا ہے کہ اچھی باتوں کو بتایا اور بری باتوں سے روکا جاوے۔یہ دونوں امر یوں تو بہت مشکل ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق رفیق حال ہو تو بہت آسان ہوجاتے ہیں۔مجھے خود اس امر کا تجربہ ہے اور میں تو ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب جب جس جس قد ر کوئی اللہ تعالیٰ کا متبع ہوتا جاتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ اس کے متبع بنا دیتا ہے۔(الرحمٰن:۶۱)۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک ممتاز انسان تھے اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کا نمونہ تھے اس لئے آپ کو جو جماعت ملی وہ آپ کی اطاعت میں محو اور از خود رفتہ تھی اور ایک ممتاز مخلوق تھی۔اس وقت ایک زندہ نمونہ اس کا موجود ہے۔امام کی اطاعت سے روکنے والے کس قدر موجود ہیں اور وہ کن کن حیلوں اور تدبیروں سے لوگوں کو روکنا چاہتے ہیں مگر امام کو یأ تون من کل فج عمیق(تذکرۃصفحہ۳۹)کی بشارت اس وقت سے مل چکی ہے جب ابھی اسے کوئی جانتا بھی نہ تھا اور اب تم خود اسے دیکھ رہے ہو کہ کس طرح پر یہ الہام پورا ہورہا ہے اور ہر حصہ ملک سے لوگ چلے آتے ہیں۔خلاصۃ الکلام (التوبۃ :۱۱۲)اللہ تعالیٰ نے جو اوامر اور نواہی کی حد بندی کردی ہے اس کی نگہداشت کرتے ہیں اس کو نہیں توڑتے۔شیطانی وسوسوں اوردھوکوں سے بچو اور خبردار ہوجائو۔اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہے ایسے مومنوں کو جو حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں اور مندرجہ بالا صفات اپنے اندر پیدا کرتے ہیں خوشخبری دے دو۔پس یاد رکھو کہ حفظ حدود اللہ اس وقت ہوسکتا ہے جب حدود اللہ کا علم ہو اور یہ نہیں آسکتا جب تک قرآن نہ آوے اور قرآن کا فہم منحصر ہے تقویٰ اور مجاہدہ پر۔خدا تعالیٰ تمہیں اور مجھے توفیق دے کہ ہم ان حدود سے واقف ہوجائیں اور پھر ان کی حفاظت کریں تجاوز نہ کریں۔آمین۲؎ ٭ … ٭ … ٭ ۱؎ الحکم ۱۰؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ۱۰تا۱۲ ۲؎ الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ۵تا۶