خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 660

خطابات نور — Page 102

ہماری مخالفت میں یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ اپنی مسجدوں میں آنے سے روکتے ہیں۔ایک وہ زمانہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور کچھ عیسائی آئے تھے اور آپ نے اپنی مسجد میں ان کو اپنے طریق پر گرجا کرلینے سے منع نہیں فرمایا اور یہ زمانہ ہے کہ ذرا سے اختلاف کی وجہ سے مسجدوں سے نکال دیتے ہیں اور اس اخراج میں اس قدر غلو ہے کہ بعض دفعہ ان لوگوں نے مسجدوں کے فرش اکھڑوا دئیے ہیں اور ان کو دھلوایا ہے۔مسلمانوں کی اس قسم کی حالت ہی بتلاتی ہے کہ اس وقت ایک امام کی ضرورت ہے مگر یہ بیمار قوم اپنے درد مند طبیب اور شفیق غمگسار کو دشمن سمجھتی ہے اور اس طرح پر اس کے فیوض و برکات سے بے نصیب ہورہی ہے۔آہ! (یٰس :۳۱)۔غرض نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرو۔اس کے لئے مسجدوں کا انتظام ہونا چاہئے۔میرے دوست میری اس عرض کو غور سے سنیں اور بدگمانی کی نظر سے نہ سنیں۔میں سچ کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ درد دل سے کہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر ایمان رکھتا ہوں۔بعض لوگوں کو جب کہا گیا ہے کہ تم اپنے شہر میں مسجد بنالو تو وہ کہتے ہیں چندہ کرادو تاکہ مسجد بنالیں۔میں نے انہیں کہا ہے کہ مسجدکی بہت بڑی ضرورت ہے لیکن فی الحال یہ ضروری بات نہیں ہے کہ کوئی عظیم الشان عمارت ہو تم سیدھی سادھی کوئی عمارت اگر ممکن ہو بنالو۔ورنہ چبوترہ ہی سہی اس پر چھپر ڈال لو۔دیکھو ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا کام مدینہ طیبہ میں بھی مسجد کی بنا تھی مگر اس کے لئے کوئی بڑا اہتمام اس وقت نہیں کیا گیا۔معمولی کھجور کے پتوں کی چھت ڈال لی گئی۔یہاں تک کہ بارش میں وہ مسجد اس قدر ٹپکتی کہ صحابہ کے کپڑے لت پت ہوجاتے۔وہی مسجد گو آج عظیم الشان مسجد ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی بنا تو ضروری سمجھی مگر اس کی عالی شان عمارت کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔اسی طرح پر وادی غیر ذی زرع میں ایک عظیم الشان مسجدبنائی گئی جو اللہ تعالیٰ کا گھر کہلایا۔بیت الحرام اس کا نام رکھا گیا جو (اٰل عمران: ۹۷) کا مصداق ہوا۔ہاں جو خدا تعالیٰ کی ہستی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت قرآن کریم کی سچائی کا زبردست نشان ہے وہ مسجد جہاں روئے زمین کے مسلمان کھنچے چلے جاتے ہیں۔وہ مسجد کعبۃ اللہ کی مسجد ہے۔اب غور کرو کیا ان دونوں مسجدوں کے لئے بنانے والوں نے اس وقت چند وں کی