خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 660

خطابات نور — Page 100

غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ جو بہت جاننے والا ہوں۔یہ ہدایت نامہ دیتا ہوں جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں اور نکتہ گیر ی کا کوئی موقع نہیں ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن سے فائدہ اٹھانے والا انسان تقویٰ شعار ہو، متقی ہو۔ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو ان لوگوں کے لئے ہدایت نامہ قرار دیا ہے جو متقی ہیں۔دوسرے مقام پر علوم قرآن کی تحصیل کی راہ بھی تقویٰ ہی قرار دیا ہے۔جیسے فرمایا (البقرۃ :۲۸۳) یعنی تقویٰ اختیار کرو اللہ تعالیٰ تمہارا معلّم ہوجائے گا۔تقویٰ کے پاک نتائج بڑے عظیم الشّان ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک تو وہ ہے جو میں نے ابھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا معلّم ہوجاتا ہے اور قرآنی علوم اس پر کھلنے لگتے ہیں۔پھر تقویٰ ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔جیسے فرمایا  (النحل :۱۲۹) بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ضرور ہوتا ہے جو متقی ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو محسنین ہوتے ہیں۔احسان کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ وہ خدا کو دیکھتا ہو اگر یہ نہ ہو تو کم از کم یہ کہ وہ اس پر ایمان رکھتا ہو کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے پھر یہ بھی تقویٰ ہی کے نتائج اور ثمرات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر تنگی سے متقی کو نجات دیتا ہے اور اس کو (الطلاق :۴) رزق دیتا ہے۔متقی اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔(آل عمران:۷۷) غرض تقویٰ پر ساری بنا ہے۔پھر فرمایا کہ متقی کون ہوتے ہیں۔آپ کی پہلی نشانی یہ ہے (البقرۃ:۴) وہ  پر ایمان لاتے ہیں خلوت اور َجلوت میں برابر مومن رہتے ہیں۔ایک شخص کا مسجد میں اپنے ہم عصروں اور ملنے والوں کے سامنے ایماندار ہونا سہل ہے لیکن خلوت میں جہاں اسے کوئی نہیں دیکھتا بجز اللہ تعالیٰ کے اس کا مومن رہنا ایک امراہم ہے لیکن متقی خلوت اور جلوت میں برابر مومن رہتے ہیں۔اسی بنا پر کسی نے کہا ہے۔مشکلے دارم ز دانشمند مجلس بازپرس توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمتر میکنند