خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 93
93 ایک مقدمہ کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور تشریف فرماتھے آپ نے منتظمین آر باورچی خانہ کو تاکید کی کہ " آج کل موسم بھی خراب ہے اور جس قدر لوگ آئے ہوئے ہیں یہ سب مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کرنا چاہیے اس لئے کھانے وغیرہ کا انتظام عمدہ ہوا گر کوئی دودھ مانگے تو دودھ دو چائے مانگے تو چائے دو کوئی بیمار ہو تو اس کے موافق الگ کھانا اسے پکا دو۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 415-416 انکساری:۔اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں سے ایک خلق انکساری تذلیل کا اختیار کرنا اور تکبر سے بچنا ہے اللہ تعالیٰ تکبر کونا پسند فرماتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُتَكَبِرِينَ ابلیس تکبر اختیار کرنے کی ہی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے جناب سے راندہ درگاہ ہوا۔اس عیب کو لوگوں سے دور کرنا آپ نے اپنا فرض سمجھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں دولت مندوں میں نخوت ہے مگر آج کل کے علماء میں اس سے بڑھ کر ہے اُن کا تکبر ایک دیوار کی طرح ان کی راہ میں رکاوٹ ہے میں اس دیوار کو توڑنا چاہتا ہوں۔جب یہ دیوار ٹوٹ جاوے گی تو وہ انکسار کے ساتھ آویں گے۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6 اسی طرح آپ فرماتے ہیں ہم نے جو مخالفین پر بعض جگہ سختی کی ہے وہ ان کے تکبر کو دور کرنے کے واسطے ہے وہ سخت باتوں کا جواب نہیں بلکہ علاج کے طور پر کڑوی دوائی ہے۔اَلْحَقُّ مُر " ملفوظات جلد اول صفحہ 5 قناعت:۔،، قناعت کا ہونا ایک اعلیٰ درجہ کا اسلامی خلق ہے۔قناعت کے ساتھ آپ میں بھوک کی برداشت کا جذ بہ انتہائی طور پر پایا جاتا تھا آپ فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کھانے کے متعلق میں اپنے نفس میں اتنا تحمل پاتا ہوں کہ ایک پیسہ پر دودو وقت بڑے آرام سے بسر کر سکتا ہوں۔ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ انسان کہاں تک بھوک کی برداشت کر سکتا ہے اس امتحان کے لئے چھ ماہ تک میں نے کچھ نہ کھایا کبھی کوئی ایک آدھ لقمہ کھالیا اور چھ ماہ کے بعد میں نے اندازہ کیا کہ چھ سال تک بھی یہ حالت لمبی کی جاسکتی ہے۔اس اثناء میں