خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 78 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 78

78 یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دُور از قیاس با تیں ہیں بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسماں کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جوایمان داری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپرد ایسے مال کئے جائیں گے وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھاویں۔‘ و روحانی خزائن جلد 20 الوصیت صفحہ 319) چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ہدایت کی تکمیل میں اور آپ کے قائم کردہ نظام نو کی ایک اینٹ بننے کی خاطر ہزاروں احمدیوں نے وصیتیں کیں اور اشاعت اسلام کی خاطر اپنی جائیدادوں کا دسواں حصہ وقف کیا اور کرتے چلے جارہے ہیں۔اس نظام میں شامل ہونا ہر متقی اور صاحب حیثیت مرد عورت کے لئے فرض ہے لیکن ابھی تک ہماری جماعت کی عورتوں پر اس نظام میں شمولیت کی اہمیت پوری طرح واضح نہیں ہوئی ہے۔میں نے تمام لجنات کو لکھا ہے کہ وہ مجھے اعداد و شمار بھجوائیں کہ ہر جگہ کتنی احمدی خواتین ہیں اور ان میں سے کتنی موصی ہیں۔اب تک صرف ستانوے لجنات کی طرف سے ایسے اعداد وشمار موصول ہوئے ہیں۔اور یہ دیکھ کر میری تعجب کی انتہا نہ رہی کہ عورتوں میں وصیت کا معیار صرف ساڑھے گیارہ فیصدی ہے جو بہت ہی کم ہے حالانکہ عورتوں کے لئے مردوں کی نسبت نظام وصیت میں شمولیت زیادہ آسان ہے۔ہر شادی شدہ عورت کا مہر ضرور ہوتا ہے۔جو اس کی جائیداد ہے اسی طرح ہر عورت کے پاس کچھ نہ کچھ زیور ہوتا ہے۔بے شک عورت کی آمد نہیں ہوتی لیکن زیور اور مہر کی صورت میں بہت ہی قلیل تعداد ایسی عورتوں کی ہوگی جن کے پاس جائیداد نہ ہو۔اور وہ اس کے دسویں حصے کی وصیت کر سکتی ہیں۔ہاں یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ وصیت کرنے والی جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے پابند احکام اسلام ہو اور تقویٰ طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو اور مسلمان خدا کو ایک جاننے والا ہو اور اس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو۔جو بہن سچے دل سے اس نظام وصیت میں شامل ہونے کی خواہاں ہوگی اس کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ احکام اسلام پر عمل کرنے والی ہو اور بنی نوع انسان سے اچھا سلوک کرنے والی ہو۔پس نظام وصیت میں شمولیت کی بہت بڑی برکت یہ بھی ہے کہ صدق دل سے اور ابتغاء مرضات اللہ سے وصیت میں حصہ لینے والی کو اللہ تعالیٰ نیکیوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرماتا ہے۔پس اس نوٹ کے ذریعے میں احمدی خواتین کی خدمت میں درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی خاطر نظام وصیت کی ایک اینٹ بنیں اور ان برکات کی حامل ہوں