خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 66 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 66

66 ہوں اور اپنے نفس کو بھی اسی کی طرف بلاتا ہوں اسی کے لئے میری پکار ہے اور اسی کی طرف جانے کے لئے میں بگل بجاتا ہوں پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے اور جس کو خدا تعالیٰ ہدایت دے وہ اسے قبول کرے۔“ برکات خلافت انوار العلوم جلد دوم صفحہ 234) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا عشق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بے انتہا عشق تھا مجھے کبھی نہیں یاد کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا اور آپ کی آواز میں لرزش اور آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ آگئے ہوں آپ کے مندرجہ ذیل اشعار جو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کہے گئے ہیں آپ کی محبت پر روشنی ڈالتے ہیں۔مرا معشوق محبوب خدا ہے کہ وہ شہنشاہ ہر دو سرا ہے وہی آرام میری روح کا ہے وہی اک راہ دین کا رہنما ہے مجھے اس بات پر ہے فخر محمود ہو اس کے نام پر قربان سب کچھ اسی سے مرا دل پاتا ہے تسکین خدا کو اس سے مل کر ہم نے پایا اسی طرح آپ کی مندرجہ ذیل تحریر بھی آپ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہے:۔نادان انسان ہم پر یہ الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے وہ کیا جانے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے وہ میری جان ہے۔میرا دل ہے۔میری مراد ہے میرا مطلوب ہے اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے۔اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے اس کے گھر کی خاک روب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بیچ ہے وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم حقيقة النبوة انوار العلوم جلد دوم صفحہ 501