خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 65 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 65

66 ہوں۔1938ء کا واقعہ ہے میری طرف حضور کی باری تھی کہ رات کو آپ نے رؤیا دیکھا۔رؤیا لمبا ہے اس لئے تفصیل سے نہیں لکھتی " المبشرات“ میں شائع ہوا ہوا ہے۔اس میں آپ نے ایک زبر دست طوفان کا نظارہ دیکھا۔آپ جاگ اٹھے مجھے جگایا اور فرمایا کہ میں نے رویا دیکھا ہے میں لکھواتا ہوں ابھی لکھ لو ( آپ کا دستور تھا کہ جب بھی کبھی کوئی رویا دیکھتے عموماً اسی وقت جگا کرلکھوا دیتے تھے ) رویالکھوانے کے بعد آپ کی طبیعت میں بے چینی پیدا ہوگئی کمرہ سے باہر صحن میں نکل گئے اور ٹہل ٹہل کر نہایت رقت اور سوز و گداز سے قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت کرنے لگے۔قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلاو نَهَارًا ، فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَاءِ إِلَّا فِرَارًا o وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا اَصَابِعَهُمْ فِى أذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوُا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاه ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ه ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمُ إِسْرَارًا ، فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا لِّ يُرْسِلِ السَّمَاءِ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنْتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَرًا۔مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ﴿سورة نوح : 14,6) آپ کا پڑھنے کا انداز اور جس تڑپ سے آپ ان آیات کو بار بار پڑھ رہے تھے اتنا لمبا عرصہ گزر جانے پر بھی نہیں بھول سکتی یوں لگتا تھا کہ آپ کا دل پھٹ جائے گا۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور لگتا تھا کہ آپ کی فریاد عرش اٹھی کو ہلا دے گی۔پڑھتے پڑھتے آپ کی آواز اتنی اونچی ہوگئی کہ قریب کے گھروں کے لوگ جاگ اُٹھے اگلے دن صبح میری بچی جان مرحومہ ( بیگم حضرت میر محمد الحق صاحب ) جو ان دنوں مہمان خانہ کے کوارٹرز میں مقیم تھیں آئیں اور کہنے لگیں کہ آج رات حضرت صاحب آدھی رات کو بڑی اونچی تلاوت کر رہے تھے ہمیں اپنے گھر میں آواز آرہی تھی۔اس پر میں نے ان کو سارا واقعہ بتایا۔آپ کی تمام کتب اور تقاریر پڑھ جائیں ان کا لب لباب یہی ہے کہ بندوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہو۔شروع خلافت سے لے کر آخر تک آپ اسی کی تلقین کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق پختہ کرو۔صرف ایک ہی حوالہ پر اکتفا کرتی ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔”اب میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا شے ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو بلاتا ہوں اور وہ کونسا نکتہ ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سنو! وہ ایک لفظ ہے زیادہ نہیں صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ اللہ ہے اسی کی طرف میں تم سب کو بلاتا