خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 64
64 لیکن میں نے کہا آج تو میں زمین پر ہی سوؤں گا۔۔۔جب میں زمین پر سو گیا تو دیکھا خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد کی صفت جوش میں آئی اور متمثل ہو کر عورت کی شکل میں زمیں پر اتری ایک عورت تھی اس کو اس نے سوٹی دی اور کہا اسے مارو اور کہا چار پائی پر جا کر سو۔میں نے اس عورت سے سوئی چھین لی اس پر اس نے خدا تعالیٰ کی اس مجسم صفت نے سوئی پکڑ لی اور مجھے مارنے لگی اور میں نے کہا مارلو۔مگر جب اس نے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو زور سے سوٹی کو گھٹنے تک لا کر چھوڑ دیا اور کہا دیکھ محمود میں تجھے مارتی نہیں پھر کہا جا اٹھ چا کر سور ہو یا نماز پڑھ۔میں اسی وقت کو دکر چار پائی پر چلا گیا اور جا کر سورہا میں نے اس وقت سمجھا کہ حکم کی تعمیل میں سونا ہی بہت بڑی برکات کا موجب ہے۔“ تو خدا تعالیٰ جس سے محبت کرتا ہے اس کے سامنے سب کچھ بیچ ہو جاتا ہے تم اس کے لئے کوشش کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے تا کہ اس کی مدد اور نصرت تم کومل جائے اور جب اس کی نصرت تمہارے ساتھ شامل ہو جائے تو پھر ساری دنیا ہے کیا چیز وہ تو ایک کیڑے کی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔“ 1953ء میں جب پنجاب میں فسادات رونما ہوئے احمدیت کی شدید مخالف کی گئی احمدیوں کے گھروں کو آگیں لگائی گئیں اور اس قسم کی افواہیں سنے میں آئیں کہ کہیں آپ پر بھی ہاتھ نہ ڈالا جائے اور گرفتار نہ کر لیا جائے۔چنانچہ ان دنوں میں قصر خلافت کی تلاشی بھی لی گئی لیکن آپ کی طبیعت میں ذرہ بھر بھی گھبراہٹ نہ تھی سکون سے اپنے کام جاری تھے۔جو لوگ آپ سے محبت کرتے تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ چند روز کے لئے باہر چلے جائیں بلکہ گھبرا کر کراچی کے بعض ذمہ دار دوست آپ کو لینے کے لئے بھی آگئے کہ آپ وہاں چلے چلیں چند دن میں یہ شورش ختم ہو جائے گی۔آپ ان دوستوں کا ہمدردانہ مشورہ سن کر تھوڑی دیر کے لئے اندر آئے اور آکر دعا شروع کر دی۔دعا ختم کر کے باہر تشریف لے گئے اور جاکران دوستوں سے کہا کہ میں ہرگز جانے کے لئے تیار نہیں جو خدا وہاں ہے وہی یہیں ہے۔اللہ تعالیٰ میری یہیں حفاظت کرے گا۔اور جو مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے عذاب اور گرفت سے ڈرے۔چنانچہ چند ہی دن میں ملک میں انقلاب آ گیا۔جو مخالفت میں اُٹھے تھے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور جوان کے سرکردہ تھے وہ الہی گرفت میں آگئے۔صداقت کو پھیلانے کی تڑپ شدید تڑپ تھی کہ دنیا جلد سے جلد صداقت کو قبول کرے اس سلسلہ میں اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتی