خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 60 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 60

60 خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت اور اطاعت بن کر رہ گیا۔شروع شروع میں غلطیاں بھی ہوئیں کو تاہیاں بھی ہوئیں لیکن آپ کی تربیت اور سکھانے کا بھی عجیب رنگ تھا۔آہستہ آہستہ اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتے چلے گئے۔شادی کے بعد آپ نے میری تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور خود اس میں راہ نمائی فرماتے اور دلچسپی لیتے رہے۔بی۔اے پاس کرنے کے بعد آپ نے دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کر وا دیا۔قرآن مجید خود پڑھانا شروع کیا لیکن سبقاً سارا نہیں پڑھا۔سورۃ مریم سے سورۃ سبا تک حضور سے سبقاً قرآن مجید پڑھا اور چند ابتدائی پارے اور آخری دو پارے۔شروع میں ہمیں گھر پر پڑھانا شروع کیا تھا مجھے عزیزہ امتہ القیوم سلمہا۔عزیزم مبارک احمد اور عزیزم منوراحمد کو پڑھاتے تھے۔آہستہ آہستہ دوسرے لوگوں کی خواہش پر پھر وہ با قاعدہ درس کی صورت اختیار کر گیا اور تغیر کبیر کی صورت میں شائع بھی ہو چکا ہے۔اتنا پڑھا کر پھر کبھی سبق نہیں پڑھایا۔ہاں عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی جو درس ہوتا تھاوہ سنتی تھی اور با قاعدہ نوٹ لیتی تھی۔جو بعد میں حضور ملاحظہ فرمایا کرتے تھے۔نوٹ لینے کی عادت بھی آپ نے ہی ڈالی جب درس ہوتا تو آپ فرماتے ایک ایک لفظ لکھنا ہے بعد میں دیکھوں گا۔آہستہ آہستہ اتنا تیز لکھنے کی عادت پڑ گئی کہ حضور کی جلسہ سالانہ کی تقریر بھی نوٹ کر لیتی تھی۔اور حضور بھی وقتاً فوقتاً کوئی مضمون لکھوانا ہوتا تو عموماً مجھ سے ہی املا کرواتے۔1947ء کے بعد سے تو قریباً ہر خط ہر مضمون ہر تقریر کے نوٹ مجھ سے ہی املا کروائے۔الا ماشاء اللہ۔تفسیر صغیر کے مسودہ کا اکثر حصہ حضور نے مجھ سے ہی املا کر وایا، ٹہلتے جاتے تھے قرآن مجید ہاتھ میں ہوتا تھا اورلکھواتے جاتے تھے۔جب خاصا مواد لکھا جاچکا ہوتا تو پھر محکمہ زود نویسی کو صاف کرنے کے لئے دے دیتے۔قرآن مجید پڑھاتے ہوئے بھی اس بات پر زور دیتے تھے کہ خود غور کرنے کی عادت ڈالو۔اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تب پوچھو۔عربی کی صرف نحو کل مجھے آپ نے خود پڑھائی اور ایسے عجیب سادہ طریق سے پڑھائی کہ یہ مضمون کبھی مشکل ہی نہ لگا۔عام طور پر عربی کے طالب علم صرف و نحو سے ہی گھبراتے ہیں مگر آپ کے پڑھانے کا طریق اتنا سادہ اور عام فہم ہوتا تھا کہ یوں لگتا تھا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہمیں پہلے سے آتی تھی۔تقریر کرنے کے لئے ہدایات تقریر کرنا آپ نے خود سکھایا۔میری شادی کے بعد جو پہلا جلسہ سالانہ یا غالبا دوسرا تھا آپ نے مجھے سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر کروں۔میں نے اس سے قبل تقریر کیا مضمون بھی لکھ کر نہیں پڑھا تھا میں نے عرض کی کہ آپ لکھ دیں میں پڑھ دوں گی۔فرمایا یہ غلط ہے اس طرح کبھی