خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 757 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 757

757 خود بھی قربانیاں دینی چاہئیں۔اپنے خاوندوں، باپوں، بھائیوں کو بھی تحریک کرتے رہنا چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی ابھی سے ان قربانیوں کے لئے تیار کرتے رہنا چاہئے۔جو آئندہ انہیں کرنی پڑے گی۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا تھا:۔پس کسی وقت جماعت میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ اب کثرت سے روپیہ آنا شروع ہو گیا ہے۔قربانیوں کی کیا ضرورت ہے۔اب چندے کم کر دیے جائیں۔اس سے زیادہ جماعت کی موت کی اور کوئی علامت نہیں ہو سکتی۔اگر یہ روپیہ ہماری ضرورت کے لئے کافی ہو جائے۔تب پھر تمہارے اندر ایمان پیدا کرنے کے لئے تمہارے اندر اخلاص پیدا کرنے کے لئے۔تمہارے اندر زندگی پیدا کرنے کے لئے۔تمہارے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور ہمیشہ اور ہر آن کیا جائے۔اگر قربانیوں کا مطالبہ ترک کر دیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہوگا۔یہ سلسلہ پر ظلم ہوگا۔یہ تقویٰ اور ایمان پر ظلم ہوگا۔الفضل 7 اپریل 1944ء پس نئی نسل میں تقویٰ ایمان اور قربانیوں کی روح پیدا کرنے کے لئے تا وہ اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور وہ بوجھ جواب تکر ان کے بڑے اٹھاتے چلے آئے تھے وہ اٹھا ئیں نئی نسل کے لئے تحریک جدید دو رسوم کا اجراء حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔چاہئے کہ ہر احمدی عورت اور ہر احمدی بچی اس دور میں شامل ہو۔اس میں شامل ہونے کے لئے کم سے کم مقدار سال میں دس روپے ہے اس اعلان کے ذریعہ میں تمام احمدی عورتوں اور بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے درخواست کرتی ہوں کہ اپنے آقا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے اخراجات میں کمی کرتے ہوئے سادہ زندگی اختیار کرتے ہوئے تحریک جدید دو رسوم میں شمولیت کریں۔بچیاں اپنی کتابوں ، کاپیوں ، سکول اور کالج کے اخراجات میں خاصی رقم خرچ کر دیتی ہیں۔اسی خرچ میں سے تھوڑی سے کفایت کرتے ہوئے دس روپے سالانہ بچائیں اور تحریک جدید میں شامل ہو کر اس پیج ہزاری فوج میں داخل ہو جائیں۔جس کا وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے 30 جون 1967ء کے خطبہ میں بھی جماعت اور خصوصاً احمدی مستورات کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا۔پس تحریک جدید کے دفتر سوم کی طرف خصوصاً احمدی مستورات اور عموماً وہ تمام احمدی مرد اور بچے