خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 755 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 755

755 خطاب لجنہ اماءاللہ منڈی بہاؤالدین تلاوت قرآن کریم کے بعد حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے آنحضرت ﷺ کی سیرت پر ایک مدلل اور مؤثر تقریر فرمائی آپ نے فرمایا کہ دنیا میں بے شمار بڑے لوگ گزرے ہیں لیکن اگر ان کی سیرت اخلاق و واقعات پر نظر ڈالی جائے۔تو کوئی نہ کوئی پہلو ان کی سیرت کا نامکمل دکھائی دے گا۔لیکن وہ انسان دنیا میں ایک اور صرف ایک ہی گذرا ہے۔جس کی زندگی ہر لحاظ سے کامل اور جس کی حیات کا ہر پہلو درخشندہ و تابندہ تھا۔اور وہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ تھے ہمیں لازم ہے کہ ہم ہمیشہ آپ کی زندگی کا مطالعہ کرتے رہا کریں اور اپنی زندگی کو آپ کی سیرت کی روشنی میں اور آپ کے اُسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے گزاریں۔اس کے بعد آنمکر مہ نے آپ کی زندگی کے ایک ایک پہلو کولیا اور آپ کا کامل انسان ہونا ثابت فرمایا سب سے پہلے آپ کے حسب نسب کا اعلیٰ وارفع ہونا بتا کر آپ کا حلیہ مبارک بیان فرمایا۔پھر آپ کی اہلی زندگی۔آپ کی شجاعت آپ کا رحم و عفو۔آپ کا علم۔آپ کی تعلیم۔آپ کی اپنے مشن میں غیر معمولی کامیابی آپ کی کشش و جذب۔سب پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اور مختلف تاریخی واقعات سے ثابت کرتے ہوئے نہایت احسن طریق سے ثابت فرمایا کہ کیا بلحاظ انسانی حسن عقل اخلاق و کارناموں کے ایک کامل انسان تھے۔وہ انوار جو آپ میں تھے وہ دنیا کے کسی اور انسان اور کسی چیز میں نہیں تھے۔آخر میں آپ نے فرمایا کہ حسن وہی اعلیٰ ہوتا ہے جو جاودانی ہو۔اس پہلو سے بھی آپ کامل ہیں۔اس طرح کہ آپ کی امت میں سے ہی خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں ایک مامور کھڑا کیا جس کا کام آپ کی حقیقی غلامی میں رہتے ہوئے آپ کے حسین چہرہ پر سے اس پر وہ کو ہٹانا تھا جو چودہ سو سال کے عرصہ میں مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے آپ میں اور دنیا میں حائل ہو گیا تھا۔اور آپ کی لائی ہوئی اس کامل شریعت سے پھر سے دنیا کو روشناس کرانا تھا۔جسے مسلمان اپنے قول و فعل سے بھلا بیٹھے تھے۔تقریر ختم کرنے سے پہلے آپ نے احمدی بہنوں کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف یعنی قرآن کریم پڑھنے پڑھانے۔دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اپنی اولادوں کی صحیح رنگ میں تربیت کرنے کی تلقین فرمائی۔دعا کے بعد یہ اجلاس برخواست ہوا۔مصباح جون 1967ء