خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 754
754 سیکھا تو سمجھو کچھ نہ سیکھا۔ہمارے لئے حقیقی خوشی کا دن وہی ہوگا جب ہم سے ہر بچی اور عورت قرآن کریم ناظرہ اور اس کا ترجمہ جانتی ہوگی۔اس کے بعد آپ نے چند استفسارات کے جواب جو آپ کو کسی نے لکھ کر دریافت کئے۔اس نے رسم اور بدعت کی وضاحت چاہی تھی اور سوال کیا تھا کہ جو کسی کے گھر بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کرنے کے متعلق تھا کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں آئمکر مہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ گھر آئے ہوئے مہمان کی عزت اور اس کی خاطر کرنا ایک مؤمن کے اخلاق میں سے ہے اور اس کے آگے مٹھائی یا شربت پیش کرنا کوئی گناہ نہیں۔محلہ برادری میں بھی تحفہ بھجوانا نا جائز نہیں لیکن اس خیال سے محلہ میں یا برادری میں مٹھائی تقسیم کرنا کہ اگر نہ دی گئی تو سیکی ہوگی اور برادری میں ناک کٹ جائے گی یہ نا جائز ہے۔اگر حیثیت نہ ہوتے ہوئے محض بدنامی کے ڈر سے قرض لے کر یا فضول خرچی کر کے مٹھائی وغیرہ تقسیم کی جائے تو یہ منع ہے۔اور قرآن کریم میں سخت انذار ایسی ناک کے متعلق ہے کہ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ (القلم: 17) یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی ناک کو ہم داغیں گے۔رسم اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فلاں کام ضرور کریں گے اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس لئے کہ اگر نہ کیا تو برادری میں بدنامی ہوگی۔جماعت میں خدا تعالیٰ کے حکم کا خیال نہ کرنا اور برادری اور گاؤں والوں کے جذبات کو مقدم کرنا ہی رسم ہے۔آپ نے رسم اور بدعت کا فرق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ بدعت وہ ہے جو قرآن مجید کے خلاف ہو حدیث کے اور سنت پاک آنحضرت ﷺ کے خلاف ہو کیونکہ آپ حکم اور عدل بن کر تشریف لائے ہیں۔کسی نے سوال کیا کہ فوت شدہ کے قل جائز ہیں؟ آپ نے بتایا کہ یہ سب بدعات ہیں احادیث سے کہیں ثابت نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے قتل کئے ہوں یا آپ کے خلفاء راشدین نے قل کئے ہوں یہ سب اس زمانہ میں بدعات جاری ہوگئی ہیں جن کو ترک کرنا ہم سب کا فرض اولین ہے۔آخر میں آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کا مقصد یہی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم دنیا میں پھیلے اور ہمیں چاہئے کہ مال اولاد۔اوقات اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے ذریعہ ایسی قربانیاں کریں جن کے نتیجہ میں ہمیں اپنے مقاصد میں کامیابی ہو۔پھر آپ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی عظیم الشان قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے۔مصباح جون 1967ء