خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 752
752 خطاب ممبرات لجنہ اماءاللہ کھاریاں 14 مئی 1967ء کھاریاں میں حاضرات سے خطاب فرمایا: سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سب سے پہلے آپ نے عہدیداران اور ممبرات لجنہ کھاریاں کا پر خلوص شکر یہ ادا کیا اور اس امر پر خوشی کا اظہار فرمایا کہ کھاریاں کی لجنہ اپنے علاقہ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ان کے لئے آپ نے دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ انہیں اس سے بھی بڑھ چڑھ کر قربانیاں کرنے اور ایمان و اخلاص میں ترقی دیتے ہوئے مزید عمل کی توفیق عطا فرمائے۔زاں بعد حضرت سیدہ محترمہ نے قرآن مجید کی سورہ ملک کی آیت تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِ شَيْءٍ قَدِيرِ نِ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (الملک : 32) تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ موت و حیات کا سلسلہ اس لئے جاری فرمایا ہے کہ ظاہر ہو جائے کہ تم سے عمل کرنے میں قربانیاں دینے میں دنیا کو چھوڑ کر دین کو مقدم کرنے میں کون سب سے زیادہ اچھا ہے۔خدا پر ایمان لانے کے بعد یوم آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے کہ مرنے کے بعد مواخذہ کا ڈر نہ ہوتا تو کوئی شخص اس جوش خروش سے نیک عمل نہ کرتا۔جس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے کئے۔جو قو میں یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتیں وہ خدا کی ہستی پر بھی ایمان لانا چھوڑ دیتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ طالب علم اسی لئے تیاری کرتا ہے کہ اسے امتحان کا ڈر ہوتا ہے۔بچے راتوں کو جاگ جاگ کر امتحانوں کی تیاریاں کرتے ہیں اور ماں باپ بھی انہیں زیادہ توجہ سے پڑھنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔اسی طرح وہ شخص بھی جسے یوم آخرت پر ایمان ہو اس امتحان سے خائف رہتا ہے جو آخری امتحان ہے۔جس میں دنیا کی زندگی کے کاموں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ابدی زندگی وہی ہے جو موت کے بعد ملنے والی ہے اس عارضی زندگی کے لئے ہم کیا کچھ نہیں کرتے۔لیکن وہ زندگی جس میں اس در العمل کی زندگی کے کاموں کا فیصلہ ہوتا ہے۔وہاں وہی شخص کامیاب ہو گا جس نے اس دنیا میں اپنی اولا دکو اپنے مال کو اپنے وقت کو خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے خرچ کیا۔آپ نے فرمایا۔پس بہنو! وہ دن یا درکھو جب ہر شخص سے مواخذہ ہوگا۔پس قرآن کریم کی آیت وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون (الذاریات: 57) کی روشنی میں اپنی پیدائش کے