خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 743
743 شیخو پورہ میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی اہم تقریر مورخه 1966-11-2 حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کسی نئے مذہب کا قیام نہ تھا۔مسلمان جہالت کے گڑھے میں گرے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت سنوارنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھجوایا تا وہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پاس سے کوئی چیز پیش نہیں کی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے ہی لوگوں کو روشناس کرایا۔قرآن مجید کے احکام اور اسلام کو پھیلانے کی جتنی کوشش آپ نے کی اس کی مثال 1400 سال کے عرصہ میں نہیں ملتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق پر چل کر ہی ترقی مل سکتی ہے۔سب سے پہلا گر جو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔وہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی کامل اور غیر مشروط اطاعت کریں اس کے بغیر نہ کوئی مذہب اور نہ ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے۔مسلمانوں کو زوال اس وقت آیا۔جب انہوں نے خلافت کا احترام چھوڑ دیا اور خلیفہ وقت کی اطاعت ترک کر دی۔پس ہمیں چاہئے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اسلام کی طرف دنیا کو کھینچنے کے لئے اپنا نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن جب تک ہمارے دل دنیا کی حرص اور آز سے پاک نہ ہوں۔آپس میں تعاون نہ ہو اس وقت تک ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں کہلا سکتے۔پس ہمیں چاہئے کہ ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہو اور ایک ہی نصب العین ہو اور وہ یہ ہے کہ اسلام کا بول بالا ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند ہو۔اب عمل کا زمانہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے میری کامل اطاعت کرو۔میری پیروی کرو۔کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔اگر ایمان کے ساتھ عمل اور قربانیاں نہ ہوں تو ایسے ایمان کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔کبھی وقت کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔کبھی مال کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ سب قربانیاں امام وقت کے پیچھے چلنے سے ہی کی جاسکتی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح نے اس سال جماعت کی