خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 723
723 جلسہ حسین آگاہی ملتان میں ممبرات سے خطاب 23 مئی 1966ء حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے اپنی تقریر میں فرمایا۔قرآن پاک میں جو شرائط بیعت بیان ہوئی ہیں وہ صرف اسی زمانہ کے لئے نہ تھیں بلکہ قیامت تک کی عورتوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی جب مومن عورتیں تمہارے پاس آئیں تو ان سے ان شرائط پر بیعت لینا۔اللہ تعالیٰ کے مقابل کسی کو شریک نہ بناؤ گی۔چوری نہ کرو گی بد کاری نہ کرو گی۔بہتان تراشی نہ کرو گی۔آپ کے اور خلفاء کے نیک احکام کی پابندی کرو گی۔ان شرائط کو بڑی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے۔کیا ہم احکام شریعت کی پابندی کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد ہی یحى الدين ويقيم الشريعة تھا اگر ہمارا تمدن و معاشرت، گفتار و کردار قرآن پاک کے مطابق نہیں تو ہم احمدی کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔آپ نے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حقیقی معبود اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ تمام دنیاوی رشتہ داروں کے مقابلہ میں اللہ کو ترجیح دی جائے۔رسومات اور بدعات کا کلیۂ خاتمہ کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی پابندی کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم عملی طور پر تمام کمزوریوں کو دور کریں۔ماؤں کی غلط تربیت کی وجہ سے آج ہمارے معاشرہ میں جابجا گناہ نظر آتا ہے۔آپ کی اولا دا گر اسلام کی خاطر قربانیاں کرنے والی ہوگی تو آئندہ نسل آپ پر عقیدت کے پھول نچھاور کرے گی۔مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر پردے سے غفلت برتنا اور اسلامی شعار کی پابندی نہ کرنا افسوسناک ہے۔بچوں کے غلط اقدامات کے ذمہ دار زیادہ تر والدین ہوتے ہیں۔ہماری جماعت کی عورتوں اور لڑکیوں کو مثالی کردار پیش کرنا چاہئے۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اسلامی روایات کو از سر نو زندہ کریں۔قرآن پاک کو پڑھے اور پڑھائے بغیر ہم میں وہ نمایاں خصوصیات پیدا نہیں ہو سکتیں جو اسلام کا طرہ امتیاز ہیں۔سکولوں اور کالجوں میں بھیج کر مستورات اپنے بچوں کی تربیت سے غافل نہ ہو جائیں بلکہ دینی علم کی طرف زیادہ توجہ دیں۔