خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 712 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 712

712 یو نیورسٹی کیمپس ( پشاور ) میں جلسہ مورخہ 14 اپریل 1966ء کو شام 4:30 بجے یونیورسٹی کیمپس پشاور میں ایک جلسہ زیر صدارت بیگم سیف اللہ صاحبہ پریذیڈنٹ اپوا منعقد ہوا۔ہر طبقہ اور ہر خیال کی اہل علم مستورات کی ایک کثیر تعداد اس جلسے میں شامل ہوئی۔حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کی تقریر کا موضوع تھا اسلام ہی زندہ مذہب ہے۔“ آپ نے فرمایا کہ اسلام جو شریعت پیش کرتا ہے وہ کامل ہے۔اسلام جس خدا کا تصور پیش کرتا ہے وہ زندہ ہے اور اسلام جس نبی پر ایمان لانے کو کہتا ہے اس کی فیضان 1400 سال گزرنے پر بھی جاری وساری ہے۔اسلام کا زندہ اور زندگی بخش خدا وہ ہے جو ابتدائے آفرینش سے انسان کی ربوبیت کرتا چلا آیا ہے کر رہا ہے اور کرتا چلا جائے گا۔وہ رحیم ہے۔بڑا ہی مہربان ہے، بہت ہی شفیق وہ ازلی ابدی خدا تمام دنیا کا خالق ہے مالک ہے ہر چیز اس کی ملک ہے ہر چیز اس کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں۔ہاں اسلام کا خدا وہی ہے جو آدم کے وقت زندہ تھا جو ابراہیم کے وقت میں اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے۔موسیٰ کے وقت میں جس کی تجلیاں ہوتی رہیں اور جس کی کامل تجلی آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہوئی وہ اب بھی زندہ ہے۔اب بھی اپنے پیاروں کے ذریعہ اپنے زندگی کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے پھر اسلام جو شریعت پیش کرتا ہے وہ زندہ اور کامل ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے ساتھ اس نے امت محمدیہ پر اپنی نعمتوں کا تمام کر دیا ہے۔اس میں کسی قسم کی کمی باقی نہیں رہ گئی۔پہلی آسمانی کتابوں کی سب دائمی صداقتیں اصولی طور پر قرآن مجید میں جمع ہوگئی ہیں۔گویا یہ ایک مکمل ہدایت نامہ ہے جو امت محمدیہ کوملا اور اب قیامت تک کے لئے ہر شخص کی نجات کی کنجی یہی آسمانی صحیفہ ہے اور پھر اسلام جس نبی پر ایمان لانے کو کہتا ہے اس کی قوت قدسیہ 1400 سال گزرنے پر بھی جاری وساری ہے۔اس کی شان اتنی بلند ہے کہ خود خدا تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اس کا عاشق خدا کا محبوب اور اس کا غلام سب دنیا کا سردار بن جاتا ہے۔اس عظیم الشان نبی کی قوتِ قدسیہ اور فیض سے ہمیشہ ہی دنیا ہدایت پاتی رہے گی اور قیامت کے دن بھی آپ ﷺ ہی ہمارے شفیع ہوں گے۔نجات تو بے شک خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وابستہ ہے مگر راہ نجات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر نہیں ہے۔الفضل مئی 1966