خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 711 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 711

711 خطاب لجنہ اماءاللہ پشاور 13 را پریل کو پشاور میں احمدی مستورات کا ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔جس میں حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے ممبرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔لجنہ پشاور کی چھ ماہ کی رپورٹ سنی ہے اور یہ امر باعث مسرت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کا ہر قدم ترقی کی طرف اُٹھ رہا ہے تاہم ان رپورٹوں میں اصل حسن اور نکھار تبھی پیدا ہوسکتا ہے جب اُن میں بتایا جائے کہ سال رواں میں اتنے لوگوں نے ہماری تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں حق کو قبول کیا ہے۔۔۔ہم لوگوں کا اصل نصب العین یہی ہے کہ بھٹکی ہوئی مخلوق خدا کو اسلام کا صحیح چہرہ دکھایا جائے۔۔۔اور یہ سب کچھ اس حالت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم اپنا عملی نمونہ ایسا اعلیٰ پیش کریں کہ ہمارے ہر قول اور ہر فعل سے اسلام اور احمدیت کی صداقت شعار ہو۔“ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ”ہم سب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہوئی ہے۔لہذا آپ کی پیش کردہ دس شرائط بیعت پر عمل پیرا ہونا ہر احمدی عورت کا فرض اولین ہے۔اس کے بعد ہر شرط پر کسی قدر تفصیلی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ احمدی مستورات کو خسر میں، پسر میں تنگی میں آسائش میں ہر حالت میں خدا تعالیٰ کی خاطر اس کے دین کی خاطر اس کے حبیب کی خاطر عظیم الشان قربانیوں کیلئے تیار رہنا چاہئے۔احمدیت کو ضرورت ہے حضرت عائشہ صدیقہ کی سی عالم دین خواتین کی ، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی طرح اپنا سارا مال دین اسلام کی سربلندی کے لئے نچھاور کرنے والی مستورات کی اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنھا کی طرح ہر حال میں راضی برضارہنے والیوں کی۔پس میری بہنو اور بچیو! اپنا اعلیٰ نمونہ پیش کرو۔“ الفضل 5 رمئی 1966 ء