خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 710
710 بچوں کو قرآن مجید ناظرہ پڑھانے کا انتظام اور لجنات اماءاللہ کا فرض آپ نے فرمایا:۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنے حالیہ خطبہ میں جماعت کی اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ بہت جلد ایسا انتظام کریں کہ جماعت کے سوفی صدی بچے قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیں۔بچوں کو قرآن مجید پڑھانے کی ذمہ داری مردوں سے زیادہ عورتوں پر عائد ہوتی ہے۔مرد اپنے کاموں کے سلسلہ میں باہر رہتے ہیں اور بچوں کی دینی تعلیم کی طرف کما حقہ توجہ نہیں دے سکتے۔لیکن عورتیں گھروں میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کو خود قرآن مجید پڑھا سکتی ہیں۔مرکز میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مدرسوں میں بھی قرآن مجید پڑھانے کا انتظام موجود ہے۔اور لجنہ کے زیر انتظام بھی۔لیکن مرکز سے باہر کثرت سے ایسے بچے ہیں جو سکولوں میں جا کر دنیوی تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں مگر قرآن مجید نہیں پڑھتے۔پس میں اس اعلان کے ذریعہ تمام لجنات کو توجہ دلاتی ہوں کہ وہ اپنی لجنہ کا دورہ کر کے اس امر کا جائزہ لیں کہ ان کے ہاں کل کتنے بچے ہیں ان میں کتنے قرآن مجید ختم کر چکے ہیں۔کتنے قرآن مجید پڑھ رہے ہیں۔کتنے ایسے بچے ہیں جو کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے قرآن مجید ناظرہ نہیں پڑھ سکے؟ اس قسم کی فہرستیں دس پندرہ روز کے اندر اندر مرکز میں پہنچ جانی چاہئیں۔یہ بھی اطلاع دیں کہ جن بچوں نے ابھی تک قرآن مجید نہیں پڑھا ان کے پڑھانے کا انتظام مقامی لجنہ کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور بچوں کی تعداد کیا ہے؟ اگر مقامی لجنہ ان کے قرآن مجید پڑھانے کا انتظام نہیں کر سکتی تو مرکزی لجنہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کی تعلیم کا انتظام کرے گی۔مصباح مارچ 1966 ء