خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 701
701 نصائح بر موقع جلسہ تقسیم انعامات فضل عمر جونیئر ماڈل سکول 18 جون 1964 فضل عمر جونیئر ماڈل سکول ربوہ کا جلسہ تقسیم انعامات زیر صدارت حضرت سیدہ ام متین صاحبہ منعقد ہوا۔تقسیم انعامات کے بعد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے اپنے خطاب سے حاضرین کو نوازا۔سب سے پہلے انعامات لینے والے بچوں کو مبارک باد دیتے ہوئے آپ نے اساتذہ کو ان کامیابیوں میں برابر کا شریک ٹھہرایا اور فرمایا کہ آپ اس سکول میں صرف امتحان پاس کرنے کے لئے داخل نہیں ہوئے بلکہ اس سے بالاتر ایک عظیم مقصد احمدیت کی خدمت کرنا ہے۔آپ خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں زندگی کا مقصد اچھے شہری۔ماں باپ کے فرمانبردار اور محلے کے اچھے ہمسائے بننا ہے۔اگر یہ مقصد پورا ہے تو اس سکول میں پڑھنے کا فائدہ ہے ورنہ نہیں۔سٹاف پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں میں اعلیٰ اخلاق دینی تربیت قوم کی خدمت کا جذبہ اور قربانی کی روح پیدا کریں۔اس سلسلے میں بچوں کی ماؤں کا تعاون حاصل ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ اعلیٰ صفات جن سے یہ نونہال ملک وقوم اور اسلام کے اعلیٰ افراد بن سکیں۔سکول اور والدین کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں۔دوسری بات جس کی طرف آپ نے خاص طور پر توجہ دلائی وہ یہ تھی کہ بچپن سے ہی بچے کو اعلیٰ صفات اور زندگی کے بہترین مقصد سے روشناس اور مانوس کرایا جائے۔محبت الفت اور محنت سے اس کے لئے ایسے طریق اختیار کئے جائیں کہ اس سکول کے بچے واقعی ان صلاحیتوں کے مالک بن جائیں۔آخر میں آپ نے مغربی اقوام کی تقلید سے نفرت کا جذبہ پیدا کرنے پر بھی زور دیا اور بچوں کے حق میں دعا پر اپنی تقریر کو ختم فرمایا۔دعا کے بعد یہ دلچسپ اور مفید پروگرام اختتام پذیر ہوا۔مصباح جولائی 1964)