خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 679
679 احمدی خواتین کے نام اہم پیغام یہ پیغام حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے نومبر 1972ء میں لجنہ اماءاللہ کے قیام کے پچاس سال مکمل ہونے پر دیا۔میری عزیز بہنو! اللہ تعالیٰ کے فضل سے 25 دسمبر 1972 کو لجنہ اماءاللہ کے قیام پر نصف صدی پوری جائے گی۔ہم خوش ہیں کہ وہ تنظیم جو صرف چودہ ممبرات سے شروع کی گئی تھی۔آج ایک بین الاقوامی انجمن ہے۔جس کی ساری دنیا میں ساڑھے چھ سو سے زائد شاخیں ہیں۔ہماری بزرگ خواتین نے بڑی قربانیوں اور جد و جہد سے ہمیں اس مقام پر کھڑا کیا، با وجود کم تعلیم کے ان کے دلوں میں ایک عزم اور خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ قربان کر دینے کا جذبہ موجود تھا۔خلیفہ وقت کی ہر آواز پر انہوں نے سب کچھ قربان کر دینے کا تہیہ کیا۔ان کی قربانیوں اور محنت کے نتیجہ میں لجنہ اماءاللہ ترقی کرتی گئی لیکن آج لجنہ اماءاللہ کی نصف صدی کی ترقیات کا جائزہ لیتے ہوئے اس موقعہ پر صرف ہمارا خوش ہونا کافی نہیں۔جب تک آئندہ کے لئے ہم ایسا ٹھوس لائحہ عمل نہ تجویز کر لیں۔جس کے نتیجہ میں ممبرات لجنہ پہلے سے زیادہ جوش سے قربانی دے سکیں۔اپنی آئندہ نسلوں کی دینی ماحول میں نیک تربیت کر سکیں تا کہ ان کی اولا دیں اس بوجھ کو صحیح طور پر اٹھانے اور ان کی جگہ لینے کے لئے تیار رہیں۔قوم وہی زندہ رہتی ہے جس کی انگلی نسل پچھلی نسل کی جگہ لینے کے لئے تیار ہے۔موجودہ زمانے کی آزادی اور بے راہ روی کا صحیح توڑ صرف اور صرف عورتوں کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔اگر وہ اپنے بچوں کی خالص دینی ماحول میں تربیت کریں، قرآنی احکام سے ان کو روشناس کروائیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت کا جذبہ اور قرآن مجید کے احکام پر چلنے کا جذبہ اس شدت کے ساتھ ان کے دلوں میں پیدا کریں کے بڑے سے بڑا شیطانی حملہ ان کے دلوں کے گرد کھینچی ہوئی حصار کو نہ توڑ سکے گا۔یہی اس زمانہ میں آپ کا سب سے بڑا کام ہے۔اور یہی آپ کا سب سے بڑا فرض ، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا( التحريم: 7) ہر احمدی خاتون اور ہر ممبر لجنہ اماءاللہ کا فرض اپنی اولادوں کو دنیا پرستی کی آگ سے محفوظ رکھتے ہوئے سچا (احمدی) بنانا ہے۔