خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 51
51 کا وجود چھوڑے جارہا ہوں تم اس کی حفاظت کرنے میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہ کرنا۔اللہ اللہ کس قدر عشق کا مظاہرہ ہے آخری دم میں نہ بیوی بچوں کا خیال نہ اور کوئی فکر اگر فکر تھی تو صرف آنحضرت ﷺ کی حفاظت کی کہ ان کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے۔عورتوں کا اخلاص و ایثار:۔پھر یہی نہیں کہ صرف مردوں میں یہ اخلاص پایا جاتا تھا عورتوں میں مردوں سے بھی بڑھ کر محبت ، اخلاص اور ایثار کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا اور کیوں نہ ہوتا ایہ آپ ہی کی ذات مبارک تھی جس نے ان کو خاک سے پاک کیا ان کے رتبہ کو بلند کیا۔اتنا بلند کیا کہ فرمایا الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ أُمَّهَاتِكُمُ ( لسان الميزان جلد 6 ص : 128) سبحان اللہ وہی عورت جو ایک وقت ذلیل ترین وجود سمجھی جاتی تھی اس کے متعلق فرما دیا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔جب جنگ اُحد میں آنحضرت ﷺ کی شہادت کے متعلق خبر مشہور ہوئی تو مسلمان عورتیں بے قراری سے گھروں سے نکل کھڑی ہوئیں لشکر سے جو لوگ واپس آرہے تھے ایک عورت نے ان میں سے ایک شخص سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس کو چونکہ معلوم تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس نے کہا بہن تمہارا بھائی شہید ہو گیا ہے۔اس نے پھر پوچھا اس نے کہا۔بہن تمہارا باپ بھی شہید ہو گیا ہے۔اس نے پھر سوال کیا آنے والے شخص نے کہا بہن تمہارا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے۔اس پر اس عورت نے غصہ سے کہا کہ میں تم سے رسول اللہ ﷺ کا حال پوچھ رہی ہوں۔آپ ﷺ کی خیریت بتاؤ تب وہ شخص کہنے لگا آپ مے تو خیریت سے ہیں۔اس پر وہ بولی کہ اگر رسول اللہ نے خیریت سے ہیں تو پھر مجھے کوئی غم نہیں۔اسی طرح جنگ اُحد کا ہی ایک واقعہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لا رہے تھے تو عورتیں اور بچے آپ کو لینے کیلئے شہر سے باہر نکل آئے۔رسول کریم کی اونٹنی کی باگ سعد بن معاذ نے پکڑی ہوئی تھی شہر کے قریب انہیں اپنی ضعیف والدہ نظر آئیں۔اس جنگ میں ان کا ایک بیٹا عمر بن معاذ شہید ہو گیا تھا۔انہیں دیکھ کر سعد بن معاذ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ماں آرہی ہے۔جب وہ قریب آئیں رسول کریم ﷺ نے انہیں کہا مائی مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔اس نے جواب دیا یا رسول اللہ اوج آپ کو سلامت دیکھ لیا تو پھر مجھے کوئی غم نہیں۔*