خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 665
665 پیغام برائے طالبات فضل عمر تعلیم القرآن کلاس یہ پیغام تعلیم القرآن کلاس منعقدہ 31 جولائی 1967ء میں محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے پڑھ کر سنایا۔طلباء و طالبات فضل عمر تعلیم القرآن کلاس! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ماہ مرکز میں رہ کر علوم روحانی و دینی سیکھنے کی تو فیق عطا فرمائی۔مرکز میں ایک ماہ ایک خاص پروگرام کے ماتحت بسر کرنا در حقیقت آپ کی روحانی فوجی ٹرینگ کا زمانہ تھا۔جنگ خواہ ظاہری ہو یا روحانی اس کے دو ہی طریق ہوتے ہیں۔ایک دفاعی جنگ اور دوسرے جارحانہ جس میں دوسرے فریق پر حملہ کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز نے کفر والحاد کی سرزمین کا سفر اس لئے اختیار فرمایا ہے تا وہ اس آخری روحانی جنگ کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ لڑی جانی شروع ہوئی تھی ایک بھر پور حملہ مخالفین اسلام پر کریں تا صلیب مکمل طور پر پاش پاش ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی توحید کا کامل طور پر قیام ہو۔ساری دنیا آنحضرت ﷺ کی غلامی میں داخل ہو جائے اور مامورزمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہچان لے۔اس روحانی جنگ کے جاری رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ جماعت میں دفاعی (روحانی) جنگ کی بھی اچھی طرح تیاری ہو۔سو اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار فضل نازل ہو ہمارے جرنیل حضرت خلیفتہ اسیح الثالث به المتعالی پر کہ آپ نے فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کا انتظام فرما کر جماعت پر احسان فرمایا تا ایک ماہ یہاں رکھ کر قرآنی قلعوں اور قرآنی محاذ کی حفاظت کے لئے روحانی دلائل کا اسلحہ آپ کو مہیا کیا جائے اور اس روحانی اسلحہ کے استعمال کا طریق بھی آپ کو سکھایا جائے۔پس مبارک ہیں جو خلیفہ وقت سلمہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر اس لئے جمع ہوئے تھے تا یہاں جو روحانیت اور دین کی چھاؤنی ہے رہ کر دین کی حفاظت کے اصول اور قرآنی جہاد کے گر سیکھیں۔آپ سب کو چاہئے کہ جو کچھ یہاں تربیت حاصل کی ہے اس کی مشق جاری رہے۔جو دلائل اسلام کی دیگر مذاہب پر فوقیت کے خود سیکھے ہیں وہ دوسروں کو سکھائے جائیں تا ہماری جماعت کا ہر مرد اور ہر عورت دنیا کے سامنے یہ ثابت کر سکے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے۔آنحضرت ﷺ ہی زندہ نبی ہیں اور قرآن