خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 661
661 پیغام برائے اجتماع لجنہ اماءاللہ نیر و بی 1967ء ممبرات لجنہ اماءاللہ نیروبی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته آپ فاصلہ کے لحاظ سے ہم سے دور ہیں لیکن دل سے دور نہیں۔حقیقت میں آپ نمائندہ ہیں مرکز کا اس ملک میں۔آپ کے کردار، اخلاق اور نیک نمونہ کو دیکھ کر وہاں کے رہنے والے غیر احمدی یا غیر مسلم مرکز کے رہنے والوں کا اندازہ لگائیں گے۔اس لئے آپ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کوئی ایسا خلاف شریعت کام آپ سے نہ ہو جس کی وجہ سے احمدیت اور اسلام پر حرف آئے۔براعظم افریقہ میں اسلام کے غلبہ اور اشاعت کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔جو نئی روحیں صداقت کو قبول کریں گی۔وہ یقینا آپ لوگوں کے نقش قدم پر چلیں گی۔اس لحاظ سے بھی بڑا ہی ضروری ہے کہ آپ کی زندگیاں آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق بسر ہوں تا صداقت کی متلاشی روحیں آپ کے نمونہ کو دیکھ کر اسلام کی طرف متوجہ ہوں اس لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ہر احمدی خاتون اور بچی واقف ہو۔اسے قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہو۔شریعت کے احکام کا علم ہو۔اسلامی تاریخ سے واقفیت ہو۔آنحضرت ﷺ کی زندگی کا علم ہو۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری بہنیں تحریک جدید کے اصولوں پر عمل کرنے والیاں ہوں اور سادہ زندگی گزارنے والیاں ہوں تا غلبہ اسلام کی جد و جہد میں زیادہ سے زیادہ قربانیاں دے سکیں۔رسومات اور بدعات کو یکسر چھوڑ دیں اور ان کی زندگیاں اور تمام کام قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق ہوں۔لجنہ اماءاللہ کے ذمہ سب سے بڑا کام تربیت و اصلاح کا ہے اگر اپنی اصلاح کئے بغیر ہم پوری لگن کے ساتھ تبلیغ کا فریضہ ادا بھی کریں گی تو اس کا زیادہ اثر نہیں ہوگا۔انسانی دل پر سب سے زیادہ اثر نمونہ کا ہوتا ہے۔عورتوں کی وجہ سے ہماری جماعت میں رسومات پھر شروع ہوگئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو آئے ہی ظلمتوں کو مٹانے اور بدعات کو دور کرنے کے لئے تھے۔ہماری جماعت کو رسومات کے خلاف جہاد کرنا چاہئے تا جماعت میں نئے داخل ہونے والے احمدی بھی ان میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ہمارے سامنے تو ایک ہی مقصد ہے تو حید کا قیام اور آنحضرت ﷺ کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا۔پھراپنی اولادوں کی تربیت کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔جن سے ان کے دل میں اسلام سے گہرا تعلق