خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 619 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 619

619 پھر وہ زمانہ آیا جس میں عورتوں کی تنظیم حقیقی رنگ میں ہوئی یعنی حضرت مصلح موعود کا زمانہ جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا تھا کہ وہ اسیروں کا رُستگار ہوگا۔جب مسلمانوں نے قرآن پر عمل کرنا چھوڑا تو عورتوں سے وہ حقوق بھی چھین لئے جو اسلام نے ان کو دیئے تھے۔اور خود عورتوں میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس مٹ گیا۔حضرت مصلح موعود شروع سے اس یقین پر قائم تھے کہ کسی قوم کی ترقی کے لئے اس قوم کی عورتوں کی تربیت کی ضرورت ہے ان کے ذہنوں کو جلا بخشنے کی حاجت ہے۔ان میں فکری انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔چنانچہ آپ نے 1922ء میں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم فرما کر اس عالمگیر مہم کا آغاز فرما دیا۔اس تنظیم کو قائم فرما کر جہاں آپ نے عورتوں کے دینی اور دنیوی تعلیم حاصل کرنے کا انتظام فرمایا وہاں ان میں قوم کے لئے شعور وفکر کی عادت پیدا کرنے کے لئے مجلس شوریٰ میں نمائندگی کا حق عطا فرمایا۔متواتر اپنے خطبات اور تقاریر کے ذریعہ ان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے رہے۔ان کے چھینے ہوئے حقوق ان کو دلوائے معاشرہ میں ان کو صحیح مقام عطا کیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو بشارت دی کہ اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔“ الفضل 29 اپریل 1944ء اور وہ تنظیم جن کا صرف چودہ ممبرات سے آغاز ہوا تھا آج پچاس سال گزرنے پر ایک بین الاقوامی تنظیم بن چکی ہے جس کی شاخیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہر تر اعظم میں قائم ہو چکی ہیں اور ہر جگہ مخلص مستعد اسلام کا در در رکھنے والی احمدیت کی ترقی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے والی بہنیں موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی تھی۔يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَيَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔(تذكره: 39) اس پیشگوئی کو ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھتے ہیں اور آج بھی اس تقریب مسرت کے موقع پر دور دراز ملکوں کی لجنات نے ہماری اس خوشی میں شمولیت کے لئے اپنی نمائندگان بھجوائی ہیں۔میں سب نمائندگان کو اهلاً وسهلاً ومرحبا۔کہتے ہوئے مبارک باد کا تحفہ پیش کرتی ہوں۔اس خوشی کے دن ہمارے دل نئی ذمہ داریوں کی نشان دہی کر رہے ہیں۔دنیا داروں کی طرح ہم اس تقریب کو رسمی طور پر نہیں منا رہے اور نہ منانا چاہئے۔ہم خوش ہیں اس لئے کہ آج سے قریباً 88 سال قبل قادیان کی گمنام بستی سے ایک سچائی کی آواز بلند ہوئی دنیا نے آوازے کیسے۔اعتراض کئے اس صداقت کی