خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 606 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 606

606 کہ جو منہ سے کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔خدا نہ کرے ہماری جماعت میں ایک بھی خاتون اور بچی ایسی ہو کہ جس کا عمل اور ہو اور جس کا دعوئی اور ہو۔ہم نے دعوی کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ہم نے وعدہ کیا ہے۔بیعت کرتے وقت حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر کہ جو نیک کام آپ بتائیں گے میں پوری طرح اس کی فرمانبرداری کروں گی۔ہم نے عہد باندھا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہ ہماری زندگیاں قال اللہ وقال الرسول کا نمونہ ہوں گی۔لیکن اگر ہمارے اخلاق اس کے خلاف ہوں، ہمارا کردار اس کے خلاف ہو تو دنیا یہی کہے گی کہ یہ مذہب سچا مذ ہب نہیں ہے اس مذہب میں تو صرف زبانی دعوے ہیں جس طرح کہ دوسرے مذاہب میں ہیں۔آج مذاہب سے برگشتہ ہونے والی اقوام یہی تو کہتی ہیں کہ دنیا مذ ہب کے بغیر بھی ترقی کر سکتی ہے۔اخلاق مذہب کے بغیر بھی سیکھا جا سکتا ہے۔لیکن اس کا یہ دعویٰ نہیں ہے۔اسلام نے مذہب کو انسان کی باقی زندگی سے علیحدہ نہیں کیا کیونکہ خدا سے حقیقی تعلق پائے بغیر انسان نہ اپنے صحیح مقام کوسمجھ سکتا ہے اور نہ انسانیت کی وہ خدمت کر سکتا ہے جس کے لئے خدا نے انسان کو پیدا کیا۔بہت سستیاں ہم نے کر لیں بہت غفلتیں ہم نے کر لیں۔لیکن اپنی آئندہ نسل کو ان غفلتوں اور سستیوں کا شکار ہونے سے بچاہیئے۔رحم کریں ان پر اور اس آگ سے بچائیں جو خدا کے احکام پر عمل نہ کرنے والی قوم کے لئے مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی قوم سے یہ ٹھیکہ نہیں کیا ہوا کہ میں ضرور اس کو انعام پر انعام دیتا چلا جاؤں گا۔خواہ اس کا عمل اس کے خلاف ہو۔بہت سی قوموں نے ترقی حاصل کی۔آپ ان قوموں کی ترقیوں، تہذیبوں اور تمدن کا تصور بھی نہیں لاسکتیں جنہوں نے دنیاوی اور مادی طور پر دنیا میں ترقی حاصل کی۔بڑے عروج کے بعد ان کو زوال آیا۔ان کے ایام ، نشان اور آثار تک مٹ کے رہ گئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ جب امت محمدیہ صراط مستقیم سے بھٹک گئی تو چودہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت محمد مصطفیٰ “ کے ہی ایک فرزند جلیل کو کھڑا کیا تا وہ امت محمدیہ کو گمراہی سے ہٹا کر صراط مستقیم کا راستہ دکھائے۔ہمارا تو ہتھیار ایک ہی ہے۔ہمارا نصب العین ایک ہی ہے قرآن مجید۔کتنا پیارا فقرہ ہے جو حضرت عائشہ نے کسی کے سوال کرنے پر کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیے۔آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنِ (مسند احمد بن حنبل) مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ آنحضرت ﷺ کا عمل وہی تھا جس کی قرآن نے تعلیم دی۔اور قرآن کی تعلیم وہی ہے جس پر آنحضرت ﷺ نے عمل کیا۔پس ہماری زندگیاں بھی قرآن کریم کے محور کے گرد گھومنی