خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 599 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 599

599 پڑے گا تب وہ واقعی استقامت جو تمام نفسانی جذبات پر غالب آتی ہے ہمیں حاصل ہوگی اس سے پہلے نہیں اور یہی وہ استقامت ہے جس سے نفسانی زندگی پر موت آجاتی ہے۔“ روحانی خزائن جلد 10 اسلامی اصول کی فلاسفی ص 383 یہی تعلیم عہد بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی تھی۔ہماری ہر عورت اور مرد جو بیعت کرتا ہے۔اس کا عہد یہی ہوتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اس کا عہد یہی ہوتا ہے کہ جو آپ نیک کام بتائیں گے۔اس پر پورا عمل کروں گا۔لیکن اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس کا جائزہ لے تو کتنے ہیں جو اس بات پر پورے اترتے ہیں کہ ہم نے خدا اور خدا کے رسول ﷺ اور خدا کے رسول ﷺ کے خلیفہ کی آواز پر سو فیصدی لبیک کہا ہے۔اس وقت ہمارے ملک کو بھی ، ہمارے وطن کو بھی۔اسلام کو بھی احمدیت کو بھی ضرورت ہے ایسی ماؤں کی جو ہر قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار ہیں ہم ہر اجلاس میں عہد نامہ دہراتی ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی خاطر ہم اپنے پاکستان اور اپنی قوم کی خاطر نہ اپنی جان کی پرواہ کریں گے، نہ اپنے مال کی پرواہ کریں گے، نہ اپنی اولاد کی پرواہ کریں گے۔اور نہ اپنے وقت کی لیکن جب ان کے اجلاسوں کی حاضریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ، جب ان کی رپورٹیں پڑھی جاتی ہیں تو اس سے اکثر پچاس فی صدی عورتیں حاضر نہیں ہوتیں بلکہ تیں یا پچیس فیصدی ہوتی ہیں جو اجلاسوں میں حاضر ہوتی ہیں۔یہی وہ کسوٹی ہے جس کے اوپر انسان کا ایمان پر کھا جاتا ہے جس کے اوپر اس کی قربانی کے معیار کو پر کھا جاتا ہے کہ تم نے اپنی خواہش اور اپنی خوشی کو تو مقدم رکھا لیکن خدا کے رسول اور اس کے خلیفہ کے جو دینی مطالبے ہیں ان کو پس پشت ڈال دیا۔پس جہاں ہماری عہدیداروں کا یہ کام ہے کہ وہ بہنوں کو سختی سے نہیں نرمی سے محبت سے پیار سے ان کے اندر ایک زندگی پیدا کریں۔یہ احساس دلاتے ہوئے کہ تم ایک زندہ جماعت کی خواتین ہو تمہیں احمدیت کا نام زندہ رکھنا ہے تم نے اپنی قربانیوں سے ستاروں کی طرح آسمان احمدیت پر چمکنا ہے۔یہ احساس اگر آپ ہر بچی اور ہر عورت کے دل میں پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں کہ جب حقیقی اسلام دنیا میں پھیل جائے۔اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے ہاتھ میں دراصل قوم کی باگ ڈور ہوتی ہے۔ہماری وہ چھوٹی چھوٹی بچیاں جن کو ہم اس وقت سمجھتی ہیں کہ وہ سکولوں میں پڑھ رہی ہیں اب جو چاہیں وہ کریں۔بے لگام چاہیں پھر میں جو ان کا دل چاہے کریں