خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 598 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 598

598 تو قدرتی طور پر ہر ایک کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش! ہم نے بھی وہ زمانہ دیکھا ہوتا بے شک ہم نے وہ زمانہ نہیں دیکھا لیکن یہ زمانہ بھی اس زمانے کی کڑی ہے اس سے فائدہ اٹھانا اپنے وقت کو ضائع نہ کرنا۔اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا اور اس کا اس رنگ میں استعمال کرنا کہ آپ اور آپ کی اولادوں کے ہاتھوں آئندہ اسلام کا جھنڈا ہو وہ اسلام کی خاطر اپنی جانیں دینے والے ہوں۔اسلام کی خاطر قربانیاں کرنے والے ہوں۔اسلام ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہو۔یہ مطمع نظر اور یہ حقیقی مقصد ان کے پیش نظر رکھنا آپ کا فرض اولین ہے۔قرآن مجید نے بھی یہی تعلیم دی ہے۔قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاءُ كُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ (سورة التوبه : 24) کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارتیں جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکان جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلہ کو ظاہر کرے۔یعنی ہمیں ہر چیز سے اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک محبت کرنے کی تعلیم بھی دے دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہے کہ اگر خدا اور خدا کے رسول کی محبت تمہارے گھر کی محبت سے ٹکرائے تو گھر کو چھوڑ دو۔اگر خدا اور خدا کے رسول کی محبت سے تمہارے ماں باپ کی محبت ٹکرائے تو انہیں قربان کر دو اور اگر خدا اور خدا کے رسول کی محبت سے تمہاری اولادوں کی محبت ٹکرائے تو انہیں چھوڑ دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کی مرضی کو چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور اپنے مالوں سے پیار کرتے ہیں وہ خدا کی نظر میں بدکار ہیں وہ ضرور ہلاک ہوں گے کیونکہ انہوں نے غیر کو خدا پر مقدم رکھا۔یہی وہ تیسرا مرتبہ ہے جس میں وہ شخص با خدا بنتا ہے جو اس کے لئے ہزاروں بلائیں خرید لے اور خدا کی طرف ایسے صدق اور اخلاص سے جھک جائے کہ خدا کے سوا کوئی اس کا نہ رہے گویا سب مر گئے۔پس سچ تو یہ ہے کہ جب تک ہم خود نہ مریں زندہ خدا نظر نہیں آسکتا۔خدا کے ظہور کا وہی دن ہوتا ہے کہ جب ہماری جسمانی زندگی پر موت آوے۔ہم اندھے ہیں جب تک غیر کے دیکھنے سے اندھے نہ ہو جائیں۔ہم مُردہ ہیں جب تک خدا کے ہاتھ میں مُردہ کی طرح نہ ہو جائیں۔جب ہمارا منہ ٹھیک ٹھیک اس کے محاذات میں