خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 597
597 ہمیں خدا تعالیٰ نے بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس غرض سے پیدا کیا ہے تاکہ ساری دنیا آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو۔جب تک ہم میں سے ہر عورت کے اندر یہ آگ نہیں لگی ہوگی کہ جس صداقت کو ہم نے حاصل کیا ہے اس صداقت کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچائیں اور جس روحانی علم کو ہم نے حاصل کیا ہے اس علم کو ہم دوسروں تک پہنچائیں اور جو نصب العین ترقی کا ہمارے سامنے ہے یہی دوسروں کے سامنے رکھیں اور ہم سب مل کے اس نصب العین کو حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہیں تب ہمارا نصب العین پورا ہوسکتا ہے۔تب ہماری قوم ترقی کر سکتی ہے ورنہ پھر سال کے بعد یہ پیش کر دینا کہ اتنا چندہ ہوا ہے۔اتنے فی صد ہماری قرآن شریف جانتی ہیں اور اتنی ترجمہ جانتی ہیں اور اتنی نے امتحان میں حصہ لیا ہے۔یہ تمام کے تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اصل کام یہی ہے کہ ہر عورت کے اندر ہر ایک بچی کے اندر ایک محبت اور عشق کی آگ لگ جائے اپنے رب کے لیے۔ایک محبت اور عشق کی آگ لگ جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور آپ ارشادات کے پر عمل کے لئے اور حقیقی عشق اور محبت پیدا ہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور آپ کے خلفاء سے اور خلافت سے کیونکہ خلافت وہ نکتہ مرکزی ہے کہ جس کے ساتھ وابستہ رہ کر ہی ہر ایک تنظیم ترقی کرسکتی ہے اور جماعت کا ہر فرد بھی اگر ہماری تنظیم اتنی اچھی ہو اور اس کی ہر عورت اور ہرلڑکی کے اندر یہ جذبہ ہو کہ جو آواز مرکز سے اُٹھے گی۔ہم میں سے ہر ایک نے اس پر لبیک کہنا ہے تو خواہ نمائندگان آئیں یا نہ آئیں ان کی سیکرٹری یا صدر وغیرہ ان سے کسی کام کرنے کے لئے کہیں یا نہ کہیں وہ دل وجان سے کہیں گے کہ ہم نے سنا ہے اور اس پر عمل کرنا ہے۔آئندہ نسل کی بنیاد اور آئندہ ماؤں کی روحانی تربیت کا انحصار اس نسل پر ہے قریباً دو یا تین سال سے اپنی نمائندگان اور بہنوں کو اس طرف توجہ دلا رہی ہوں کہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ آئندہ آنے والے مورخ آپ کی تاریخ کو سنہری الفاظ میں لکھیں تو یہ سنہری حروف میں لکھی جانے والی تاریخ تب کہی جاسکے گی جب آپ قربانیاں دیں گی اور اپنی نسل کی اعلیٰ تربیت کریں گی اور حقیقی اور سچا مسلمان اپنے بچوں اور بچیوں کو بنائیں گی۔لیکن اگر آپ نے ان کو بے لگام چھوڑ دیا۔خدا کی محبت ان کے دلوں میں پیدا نہ کی، دین سے محبت کرنا ، دین کے اصول وغیرہ نہ سکھائے تو پھر آنے والی نسلوں کو نہ صرف آپ کے کاموں پر غصہ آئے گا بلکہ شاید وہ روشن تاریخ تاریک الفاظ کی صورت اختیار کر جائے۔آج جب صحابیات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پڑھتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو دیکھتے ہیں