خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 584
584 محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا ﷺ کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے پورے ہو گئے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 409) حضرت مصلح موعود نے بھی واضح الفاظ میں یہی ارشاد فرمایا ہے کہ لجنہ اماءاللہ ہو مجلس انصار ہو، خدام الاحمدیہ ہو، نیشنل لیگ ہو، غرضیکہ ہماری کوئی انجمن ہواس کا پروگرام قرآن کریم ہی ہے۔“ (الفضل 11 مارچ 1939ء) قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت اور اس پر عمل کروانے کے لئے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے۔یہی نصب العین آپ کے خلفاء کا تھا اور یہی نصب العین حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔جس دن آپ نے مسند خلافت پر قدم رکھا ہے آپ کے ہر خطبہ، آپ کی ہر تقریر کا خلاصہ یہی ہے کہ قرآن پڑھو، پڑھاؤ اور اس پر عمل کرو۔تاہر احمدی خاتون اور ہر احمدی بچی عملی تفسیر ہو قرآن مجید کی۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جیسی توجہ عہدہ داران لجنات اور ہر احمدی خاتون کو بحیثیت اپنے گھرانہ کی ذمہ دار اور نگران ہونے کے کرنی چاہئے انہوں نے نہیں کی۔جب تک قرآن مجید پڑھنے ، ترجمہ سیکھنے اور انوار قرآنی کو اپنے قول اور عمل سے پھیلانے میں ہر عورت جان و دل سے حصہ نہیں لے گی ہم اپنے مقصد اور نصب العین کو حاصل نہیں کر سکتے۔بنیادی مسائل اور دلائل سیکھنے کی اہمیت گذشتہ سال سالانہ اجتماع کے موقعہ پر بھی حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالی نے آپ سب سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا۔”ہمارا یہ پروگرام ہونا چاہئے کہ جو مستورات پیدائشی احمدی ہیں ان کو نئے سرے سے وہ تمام دلائل سکھائے جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف بنیادی مسائل کے متعلق ہمیں دیتے ہیں۔66 حضور نے مزید فرمایا تھا: مصباح سالنامہ 1969 ء صفحہ 15) پس پیدائشی احمدی بہن ( گو وہ احمدی ہے ) کو ہم نے حقیقی احمدی بنانا ہے۔اگر ہم اس میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرے ہمیں بھی اس کے عذاب اور غضب کا نشانہ بننا